اتوار‬‮ ، 15 فروری‬‮ 2026 

الیکٹیبلز اداروں کے قبضہ میں ہیں ،پیسہ لیکر انکو باریاں دی جاتی ہیں ،مولانا فضل الرحمن

datetime 17  مئی‬‮  2024 |

دلیوالا (این این آئی) سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمن نے کہاہے کہ الیکٹیبلز اداروں کے قبضہ میں ہیں ،پیسہ لیکر انکو باریاں دی جاتی ہیں ،پی ٹی آئی کیساتھ جب آمنے سامنے بیٹھیں گے تب معلوم ہوگا اتحاد ہوتا ہے یا نہیں ۔ سربراہ جمعیت علما ئے اسلام مولانا فضل الرحمان نے جامعہ قادریہ میں مولانا محمد صفی اللہ کیطرف سے دئیے گئے عشائیہ میں شرکت کی اور کارکنان سے ملاقات اس موقع مولانا محمد کفایت اللہ، ضلعی سرپرست اعلی مولوی نزیر احمد صوبائی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات وقار احمد طاہر ، تحصیل امیر جمعیت علمائے اسلام مولانا عبدالقادرجنید، ضلعی صدر جمعیت یوتھ فورم حافظ حسین احمد ، مولانا زبیر ولید ، عبدالحمید سیگڑا ، نعمان ساقی سمیت کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی ۔

اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سربراہ جے یوآئی مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جس کا الیکشن کیلئے رول تھا انہوں نے رول ادا نہیں کیا جس کا رول نہیں تھا اْس نے رول ادا کیا ،مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پی ٹی آئی کیساتھ جب آمنے سامنے بیٹھیں گے تب معلوم ہوگا اتحاد ہوتا ہے یا نہیں ، ہمارے پاس آئین ہے ہم چاہتے ہیں قانون پر عمل ہو ،قانون کے مطابق ہمارے انتخابات ہوں، نظام میں فوج کیوں مداخلت کرتی ہے ہمارا سوال ہے ۔ نہوںنے کہاکہ ملک کو اگر اچھے سے چلانا ہے،سیاسی حکومت بننی چاہیے اور بیورکریسی کو آزاد کرنا ہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ الیکٹبلز اداروں کے قبصہ میں ہیں اْن کو باریاں دی جاتی ہیں پیسے لیئے جاتے ہیں ، کے پی کے میں دو عہدے میرے مخالفوں کو دئیے ، میرا اپنا بیانیہ ہے میری ایک بڑی پارٹی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ دھاندلی کے ذریعہ ہمیں ہرایا گیا ، ہمارے بیانیہ کو پی ٹی آئی کے بیانیہ کے ساتھ نہ جوڑا جائے ہمارا الگ بیانیہ ہے۔انہوںنے کہاکہ پنجاب کے عوام ذہنی لحاظ سے سب سے زیادہ پسماندہ ہے اور سیاسی لحاظ سے یہاں کا کوئی کردار نہیں ۔ انہوںنے کہاکہ گندم کے معاملہ میں کاشتکاروں کے ساتھ انہیں لوگوں نے ہاتھ کیا جنہیں ووٹ دئیے ، ہمیں اس لئے ہرایا گیا گیا کہ ہم ایجنسیوں کی آلہ کار نہیں ہیں ، عالمی اسٹبلشمنٹ اور مقامی اسٹبلشمنٹ مل کے حکومت سازی کرتے ہیں، ہم دماغ کو جمود کا شکار نہیں ہونے دیں گے کہ اسٹبلشمنٹ جو مسلط کرے ہم قبول کرلیں ۔ انہوںنے کہاکہ تمام ادارے آئین سب موجود ہیں مگر ایک ادارے کی ہی کیوں اجارہ داری ہے ۔



کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…