مریم ، عطا تارڑ، خواجہ آصف، عون چوہدری ،عبد العلیم خان سمیت 18 حلقوں کے انتخابی نتائج کیخلاف دائر درخواستیں خارج

13  فروری‬‮  2024

لاہور( این این آئی)لاہور ہائیکورٹ نے مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر و سینئر نائب صدر مریم نواز، عطا اللہ تارڑ، خواجہ آصف، عون چوہدری ،عبد العلیم خان سمیت 18 حلقوں کے انتخابی نتائج کے خلاف دائر درخواستیں خارج کردیں۔لاہور ہائیکور ٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کی عدالت نے محفوظ فیصلے سناتے ہوئے سلمان اکرم راجہ سمیت تحریک انصاف کی 18 درخواستیں ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے کا حکم دے دیا۔

تحریک انصاف کے رہنمائوں کی جانب سے لاہور سے حلقہ این اے 117 سے عبدالعلیم خان، این اے 119 سے مریم نواز ،این اے 126 سے ملک سیف الملوک کھوکھر، این اے 127 سے عطا تارڑ ،این اے 128 عون چودھری، این اے 117 سے خواجہ آصف ،این اے 80 سے شاہد عثمان کی کامیابی کے نتائج کے خلاف درخواستیں دائر کی تھیں۔اس کے علاوہ پی ٹی آئی کی جانب سے این اے 87 ملک شاکر بشیر اعوان، پی پی 167 سے عرفان شفیع کھوکھر ، پی پی 169 ملک خالد کھوکھر، پی پی 46 فیصل اکرام، پی پی 47 سے چودھری محمد منشا، پی پی 53 سے رانا عبد الستار، اور پی پی 170 انتخابی نتائج چیلنج کیے گئے تھے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی نے درخواستوں پر سماعت کی ۔ دوران سماعت جسٹس علی باقر نجفی نے استفسار کیا کہ کیا یہ درخواست قابل سماعت ہے، کیا درخواست گزار پہلے ریٹرننگ افسر کے پاس درخواست دائر کرنے کے پابند نہیں ، پہلے درخواست دائر کرنے کا فورم الیکشن کمیشن کا ہے۔عدالت نے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن کو امیداروں کی درخواستوں پر قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کی ہدایت کردیتے ہیں۔ دوران سماعت وکیل الیکشن کمیشن نے موقف اپنایا کہ ہائیکورٹ براہ راست درخواستیں دائر کرنے کا فورم نہیں ۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوں کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے موقف اپنایا کہ ہم نے مل کر الیکشن کمیشن کے رولز اور قوانین کو مضبوط بنانا ہے۔این اے 117 لاہور سے آزاد امیدوار نے موقف اختیار کیا کہ عبدالعلیم خان فارم 45 میں ناکام ہو چکے ہیں، آر او کے فارم 47 میں عبدالعلیم خان کو کامیاب قرار دے دیا گیا، الیکشن کمیشن نے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ آر او کو درخواست کے بعد بھی اس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی، عدالت کامیابی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے جس پر عدالت نے الیکشن کمیشن سے دلائل طلب کر لیے۔

لاہور ہائیکورٹ میں پی پی 169 لاہور سے آزاد امیدوار میاں محمود الرشید نے (ن) لیگ کے ملک خالد کھوکھر کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روکنے کی درخواست کی۔درخواست میں میاں محمود الرشید نے موقف اختیار کیا کہ خالد کھوکھر فارم 45 کے مطابق ہار چکے ہیں لیکن ملی بھگت سے فارم 47 میں خود کو فاتح قرار دیا، فارم 45 کے نتائج ہمارے پاس موجود ہیں۔میاں محمود الرشید نے موقف اپنایا کہ عدالت فارم 45 کے مطابق نتائج جاری کرنے اور الیکشن کمیشن کو حتمی نتیجہ جاری کرنے سے روکنے کا حکم دے، عدالت نے درخواست پر دلائل طلب کر لیے۔پی پی 170 لاہور سے آزاد امیدوار عمیر خان نیازی کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن سے جواب طلب کر لیا۔درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ پی پی 170 لاہور سے فارم 45 کے مطابق کامیاب ہوا مگر آر او نے حقائق کے برعکس فارم 47 جاری کیا، عدالت نئے سرے سے فارم 47 مرتب کرنے کا حکم دے۔لاہور ہائیکورٹ میں این اے 119 لاہور سے آزاد امیدوار شہزاد فاروق کی جانب سے مریم نواز شریف کے انتخابی نتائج روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔پی پی 145 سے یاسر گیلانی نے بھی لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے (ن) لیگ کے امیدوار سمیع اللہ خان کی کامیابی کو چیلنج کر دیا۔دوسری جانب الیکشن کمیشن کے وکیل نے ہائیکورٹ میں پیش ہوکر بتایا کہ ابھی تک نتائج کے خلاف تمام درخواستوں پر سماعتیں الیکشن کمیشن کر رہا ہے، ایک سے دو روز میں الیکشن ٹریبونل بنا دیا جائے گا۔وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ سب دعوے کر رہے ہیں کہ ہمارے پاس فارم 45 موجود ہیں، مگر دو تین درخواستوں کے علاوہ کسی بھی درخواست کے ساتھ مکمل فارم 45 نہیں لگائے گئے۔لاہور ہائیکورٹ میں این اے 128 سے عون چودھری کی کامیابی کے خلاف درخواست پر بھی سماعت ہوئی۔صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت عدالت پیش ہوئے اور کہا کہ آزاد امیدوارسلمان اکرم راجہ کا دعوی ہے ان کے پاس فارم 45 موجود ہیں جس میں وہ جیت چکے ہیں، مخالف عون چوہدری کے پاس بھی تمام فارم 45 موجود ہیں جس کے مطابق وہ جیت چکے ہیں۔

جسٹس علی باقر نجفی نے استفسار کیا کہ کیا یہ معاملہ بھی دوسری درخواستوں کی طرز کا ہے۔درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ ہمیں تصدیق شدہ فارم 45 جاری ہوئے، فارم 47 میں ہمیں ہرا دیا گیا۔عون چوہدری کی کامیابی کے خلاف درخواست پر لاہور ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔عدالت نے خواجہ آصف، عطا تارڑ سمیت دیگر کے انتخابی نتائج کے خلاف دائر درخواستوں کے بھی قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔آزاد امیدوار ریحانہ ڈار کے وکیل نے کہا کہ ہم ریٹرننگ افسر کے پاس درخواست لے کر گئے تھے، الیکشن پراسس مکمل ہوا اس کے فوری بعد ہم نے متعلقہ فورم پر رجوع کیا۔وکیل درخواست گزار نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی بدنیتی ظاہر ہے اورسب کے سامنے ہے، اب سننے کو مل رہا ہے الیکشن کمیشن نے فارم 48 بھی جاری کردیا ہے۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میری درخواست ہے کہ ہمیں بھی سن لیا جائے ۔جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دئیے کہ آپ کی باری پر آپ کو سنیں گے۔این اے 119 لاہور سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینئر نائب صدر اور چیف آگنائزر مریم نواز کی کامیابی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی ۔

دوران درخواست گزار شہزاد فاروق کے وکیل آفتاب باجوہ نے کہا کہ ہم نے مہارانی مریم نواز کے خلاف الیکشن لڑا ہے۔ جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دئیے کہ آپ ایسے الفاظ استعمال کریں گے تو میں کیس نہیں سنوں گا۔اعظم نذیر تارڑ نے درخواست گزار وکیل سے مکالمہ کیا کہ ادب سے بات کریں۔ آفتاب باجوہ نے اعظم نذیر تارڑ کو جواب دیا کہ آپ کون ہوتے ہیں مجھے بات کرنے سے روکنے والے۔جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ کسی بار کونسل کے نمائندے کے خلاف بات نہیں سنوں گا۔وکیل آفتاب باجوہ نے موقف اپنایا کہ مریم نواز کے خلاف الیکشن لڑا تو درخواست گزار کے خلاف مقدمہ درج کرادیا گیا ۔

دوران سماعت وکیل الیکشن کمیشن نے بتایا کہ درخواست گزاروں کی شکایت کمیشن کو موصول ہوئی ہیں۔جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ آپ عدالت کو بتائیں کہ کتنے درخواست گزاروں کی درخواستیں سماعت کے لیے مقرر ہوئیں ہیں۔وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس 100کے قریب شکایات سماعت کے لیے مقرر ہیں۔ہم عدالت کو باقاعدہ ریکارڈ بھی چیک کرکے بتا دیتے ہیں، امیداروں کی کامیابی کے حتمی نوٹیفکیشن کے بعد الیکشن ٹربیونل فورم بنتا ہے۔ ابتدائی اسٹیج پر الیکشن کمیشن آف پاکستان تمام شکایات کو سن رہا ہے، ابھی جو شکایات آرہی ہیں گنتی وغیرہ کی ہیں اس پر فیصلے کررہے ہیں۔وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن حتمی نوٹیفکیشن جاری کرنے کے بعد الیکشن ٹریبونل کا اعلان کرے گا، صوبائی نشستوں پر فارم 47 جاری کرتے ہوئے آر او امیداروں کو نوٹسز کرنے کا پابند نہیں ۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ فارم 47 کی تیاری کے وقت تمام امیداروں کے ایجنٹ یا کئی امیدوار خود موجود تھے، ہم عدالت میں ریکارڈ پیش کریں گے جس سے ظاہر ہوگا تمام امیداروں کے ایجنٹ اور امیدوار موجود تھے، ٹیلی فونز کا ریکارڈ جیو فینسنگ کا ریکارڈ عدالت پیش کریں گے، آر او آفس میں فارم 47 جاری کرتے ہوئے بہت بڑی تعداد میں لوگوں موجود تھے۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آر او آفس کے باہر جو جیت رہا ہوتا ہے اس کے بندے خوشیاں منانا شروع کر دیتے ہیں، آر او آفس میں جو امیدوار ہار جاتے ہیں وہ احتجاج کرتے ہیں، وہاں امیدوارں کے حامیوں کے درمیان تصادم کا خدشہ ہوتا ہے، ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم پروسیجر کو فالو نہیں کرتے، قانون میں تمام چیزیں موجود ہیں، سلمان اکرم راجہ کے کیس میں آر او آفس پانچ سو لوگ آمنے سامنے آگئے تھے۔وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ غلط بیانی مت کریں، ایسا کچھ نہیں ہوا۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ الیکشن کے بعد آر او آفس میں ایک ہنگامہ انگیز صورتحال ہوتی ہیں،اسی وجہ سے الیکشن قوانین ترمیم کرکہ کچھ قوانین میں تبدیلی کی گئی، ہمیں الیکشن کمیشن کو عزت دینی کی ضرورت ہے۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ یہ درخواستیں ابھی قابل سماعت نہیں ہیں، الیکشن کمیشن کے ممبران کو پارلیمان منتخب کرتی ہے، الیکشن کمیشن جو درخواست پہلے آئے گی وہ پہلے سنیں گے ، یہ بھی ممکن ہے کہ جو امیدوار جیتے ہیں ان کے پاس فارم 45 میں موجود اعداد و شمار کچھ اور ہوں، ہارنے والے امیدوارں کے فارم 45 میں اعداد و شمار کچھ اور ہوں۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ماضی میں بھی یہ ہوتا رہا ہے کہ ہارنے والے امیدوار فارم 45 کے نمبر تبدیل کردیتے تھے، ان تمام سوالوں کے جوابات الیکشن کمیشن میں ہی مل سکتے ہیں۔لاہور ہائیکورٹ نے انتخابی نتائج کے خلاف درخواستوں پر کارروائی 12 بجے تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن 12 بجے تک بتائے کہ اپ کے پاس کتنی شکایات آئی ہیں۔وقفے کے بعد دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو الیکشن کمیشن کے وکیل نے الیکشن کمیشن میں دائر درخواستوں کی تفصیلات عدالت پیش کر دیں۔وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ درخواستوں میں ریحانہ ڈار سمیت 7 امیدواروں کی درخواستیں الیکشن کمیشن میں دائر ہوچکی ہیں، میاں محمود الرشید، شہزاد فاروق سمیت 9 امیداروں نے الیکشن کمیشن میں درخواست نہیں دی، تمام درخواست گزاروں کو الیکشن کمیشن سے رجوع کرنا چاہیے، الیکشن کمیشن نے درخواستوں پر سماعت شروع کردی ہے۔وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کرنے کی تمام تفصیلات الیکشن کمیشن بتا چکا ہے۔

دوران سماعت عون چوہدری کی الیکشن میں کامیابی کے خلاف دائر درخواست پر وکیل بیرسٹر حارث عظمت نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اعلی عدلیہ کے فیصلوں کی روشنی میں درخواست قابل سماعت نہیں ، درخواست کو ابتدائی اسٹیج پر لاہور ہائیکورٹ میں دائر کردیا گیا، الیکشن قوانین کے مطابق فارم 48 جاری کرتے ہوئے امیدواروں کو نوٹسز کرنا لازمی ہوتا ہے۔سلمان اکرم راجہ کے وکیل سمیر کھوسہ نے کہا کہ ہم نے آر او سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن آر او تک 9 فروری سے آج تک کوئی رسائی ممکن نہیں ہو سکی، وکیل الیکشن کمیشن نے استدلال کیا کہ آر او تو عدالت میں موجود ہے۔اس موقع پر این اے 128 کے آر او نے کمرہ عدالت میں ہاتھ کھڑا کر کے اپنی موجودگی کا بتایا ۔وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہمیں نتائج مرتب کرتے وقت ریٹرننگ افسر نے آفس نہیں بلوایا۔جسٹس علی باقر نجفی نے استفسار کیا کہ آپ نے الیکشن کمیشن میں درخواست کیوں دائر نہیں کی۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جب درخواست گزار لاہور ہائیکورٹ میں آگیا تو پھر الیکشن کمیشن سے رجوع نہیں کیا۔



کالم



ہم بھی کیا لوگ ہیں؟


حافظ صاحب میرے بزرگ دوست ہیں‘ میں انہیں 1995ء سے…

مرحوم نذیر ناجی(آخری حصہ)

ہمارے سیاست دان کا سب سے بڑا المیہ ہے یہ اہلیت…

مرحوم نذیر ناجی

نذیر ناجی صاحب کے ساتھ میرا چار ملاقاتوں اور…

گوہر اعجاز اور محسن نقوی

میں یہاں گوہر اعجاز اور محسن نقوی کی کیس سٹڈیز…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے (آخری حصہ)

میاں نواز شریف کانگریس کی مثال لیں‘ یہ دنیا کی…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے

بودھ مت کے قدیم لٹریچر کے مطابق مہاتما بودھ نے…

جنرل باجوہ سے مولانا کی ملاقاتیں

میری پچھلے سال جنرل قمر جاوید باجوہ سے متعدد…

گنڈا پور جیسی توپ

ہم تھوڑی دیر کے لیے جنوری 2022ء میں واپس چلے جاتے…

اب ہار مان لیں

خواجہ سعد رفیق دو نسلوں سے سیاست دان ہیں‘ ان…

خودکش حملہ آور

وہ شہری یونیورسٹی تھی اور ایم اے ماس کمیونی کیشن…

برداشت

بات بہت معمولی تھی‘ میں نے انہیں پانچ بجے کا…