جمعرات‬‮ ، 02 اپریل‬‮ 2026 

سائفر میں کہیں پر سازش یا دھمکی کا کوئی ذکر نہیں تھا، اسد مجید کاسائفر کیس میں بیان منظر عام پر آگیا

datetime 24  جنوری‬‮  2024 |

راولپنڈی (این این آئی)راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں جاری سائفر کیس میں گواہ سابق سفیر برائے امریکا اسد مجید کے بیان کی کاپی منظر عام پر آگئی جس میں کہاگیاہے کہ سائفر میں کہیں پر سازش یا دھمکی کا کوئی ذکر نہیں تھا۔تفصیلات کے مطابق سابق سفیر برائے امریکا اسد مجید نے گزشتہ روز خصوصی عدالت میں اپنا بیان قلم بند کرایا تھا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ جنوری 2019ء سے مارچ 2022ء تک امریکا میں بطور سفیر تعینات تھا، 7 مارچ 2022ء کو ڈونلڈ لو کے ساتھ پاکستان ہائوس میں ورکنگ لنچ کا انتظام کیا تھا۔

انہوں نے بیان میں کہا کہ ملاقات کا مقصد کووڈـ19 سے متعلق پاکستانی سفارت کاروں کو درپیش مسائل تھے، ملاقات میں ڈپٹی ہیڈ آف مشن نوید صفدر بخاری بھی موجود تھے، ملٹری اتاشی بریگیڈیئر نعمان اعوان، پولیٹیکل کونسلر قاسم محی الدین بھی شریک تھے۔اسد مجید نے عدالت میں دیے گئے بیان میں کہاکہ ڈونلڈ لو سے ملاقات ڈیڑھ گھنٹے پر محیط تھی، ملاقات میں شامل دونوں فریقین کو معلوم تھا کہ منٹس آف میٹنگ ریکارڈ ہو رہے ہیں۔بیان میں سابق سفیر برائے امریکا اسد مجید نے کہا کہ ڈونلڈ لو سے ملاقات کی ساری گفتگو سائفر کی صورت میں اسلام آباد بھیجی گئی، سائفر ٹیلی گرام میں کہیں پر سازش یا دھمکی کا کوئی ذکر نہیں تھا۔

اسد مجید نے بیان میں کہا ہے کہ سائفر کو سازش قرار دینے کا فیصلہ اس وقت کی سیاسی قیادت کا تھا، سائفر ٹیلی گرام فارن سیکریٹری کو بھیجا گیا جسے انہوں نے تمام متعلقہ افراد سے شیئر کیا۔انہوں نے کہا کہ مجھے 22 اپریل 2022ء کو نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں بلایا گیا، کمیٹی نے امریکن ایمبیسی پاکستان اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ واشنگٹن کو ڈیمارش کرنے کی سفارش کی۔اسد مجید کے بیان میں کہا گیا کہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ سائفر کوئی سازش نہیں تھی، وزارتِ خارجہ نے بھی سائفر کو سازش قرار نہیں دیا تھا۔سابق سفیر برائے امریکا اسد مجید نے اپنے بیان میں کہا کہ سائفر ایپیسوڈ سے پاکستان اور امریکا کے تعلقات شدید متاثر ہوئے، سائفر کو سازش قرار دینا پاک امریکا تعلقات کے لیے سیٹ بیک تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…