جمعرات‬‮ ، 02 اپریل‬‮ 2026 

پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس لینے کیخلاف درخواست ناقابل سماعت قرار

datetime 4  جنوری‬‮  2024 |

لاہور ( این این آئی) لاہور ہائیکورٹ نے بھی تحریک انصاف سے بلے کا نشان واپس لینے کے خلاف درخواست ناقابل سماعت قرار دیدی۔لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس جواد حسن نے تحریک انصاف کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنایا ، عدالت نے درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کردیا۔خیال رہے کہ بدھ کے روز لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف سے بلے کا نشان واپس لینے کے خلاف کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔گزشتہ سماعت میں پی ٹی آئی کے وکیل نے موقف اختیار کیا تھا کہ پشاور ہائیکورٹ کے حکم پر پشاور کیلئے بلے کا نشان دیا گیا ہے، پنجاب کیلئے لاہور ہائیکورٹ حکم جاری کر سکتی ہے، مسئلہ یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں بلے کا نشان ہوگا اور پنجاب میں یہ نشان نہیں ہو گا۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کہہ چکی ہے الیکشن کے معاملات میں دخل اندازی نہیں ہونی چاہیے، تحریک انصاف کو ایک ریسرچ ونگ بنانا چاہیے جو ریسرچ کر کے کیس فائل کرے۔

وفاقی حکومت کے وکیل نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ درخواست ناقابلِ سماعت ہے، درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں ہے، یہ درخواست تحریک انصاف کی جانب سے دائر نہیں ہوئی، وکیل نے اپنے طور پر دائر کی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کے معاملات میں دخل اندازی سے روک رکھا ہے، درخواست میں وفاقی حکومت کو فریق نہیں بنایا گیا۔دریں اثنا عدالت نے درخواست گزار سے اہم سوالات کے جواب مانگے ، عدالت نے درخواست گزار کو اِن سوالات کے تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت دیتے ہوئے درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

واضح رہے کہ بلے کے انتخابی نشان کی بحالی کے خلاف الیکشن کمیشن کی درخواست پر پشاور ہائی کورٹ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے اپنا حکم امتناع واپس لے لیا تھا، جس کے بعد پاکستان تحریک انصاف اپنے انتخابی نشان بلے سے اور بیرسٹر گوہر خان پارٹی چیئرمین شپ سے محروم ہوگئے تھے۔پشاور ہائیکورٹ نے انٹرا پارٹی الیکشن سے متعلق الیکشن کمیشن کی درخواست منظور کر لی تھی۔بعد ازاں، پشاور ہائی کورٹ کے بلے کے انتخابی نشان پر حکم امتناع واپس لینے کے فیصلے کے خلاف سابق چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر خان نے سپریم کورٹ جانے کا اعلان کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…