اتوار‬‮ ، 15 فروری‬‮ 2026 

سپریم کورٹ نے افغان شہری کی پاکستان سے بے دخلی روک دی

datetime 16  اکتوبر‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ نے افغان شہری کی پاکستان سے بے دخلی روک دی جبکہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ جب تک یہ وفادار صاحب آپ کے ساتھ وفادار ہیں پاکستان میں رہ سکتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں بینچ نے افغان نژاد ڈنمارک کے شہری کو پی او سی کارڈ جاری کرنے کے کیس کی سماعت کی۔وکیل نادرا نے کہا کہ درخواست گزار نے پی او سی کی توثیق کے لیے درخواست دی تھی، پی اوسی کارڈ ان کو جاری ہوتا ہے جن کی شادی پاکستان میں ہوئی ہو، بھارت یا دشمن ملک سے تعلق رکھنے والے کو کارڈ جاری نہیں ہوتا۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے استفسار کیا کہ کیا درخواست گزار کسی تخریب کاری میں ملوث ہے؟ پی او سی کارڈ کی توثیق کی مخالفت کس بنیاد پر کی گئی ہے؟۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ درخواست گزار افغان شہری ہے، اہلخانہ کے نام دیئے گئے۔جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا درخواست گزار کے خلاف کوئی شواہد ہیں؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ درخواست گزار کے بہن بھائی کابل اور لوگر میں رہتے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ طورخم اور چمن بارڈر جائیں اور دیکھیں کیا ہے ہو رہا ہے، جس کو دل کرتا ہے پاکستان آنے دیا جاتا ہے جسے چاہے روک دیتے ہیں، یہ پیسوں کا دھندا یہاں کھڑے ہوکر نہ کریں۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ بلاوجہ کسی پر شک کرنا انسانی حقوق کے خلاف ہے، درخواست گزار کی بیوی پاکستانی اور ملک میں موجود ہے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت سے ایک ماہ کی مہلت مانگ لی۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ سماعت تک درخواست گزار کو ملک سے نہیں نکالا جائے گا۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ مسئلہ حل نہ ہوا تو آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل خود پیش ہوں۔دوران سماعت مداخلت پر عدالت نے درخواست گزار حیات اللہ وفادار کو جھاڑ پلا دی۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے درخواست گزار کی اہلیہ سے دلچسپ مکالمہ کیا کہ کیا حیات اللہ گھر میں آپ کی بات سنتا ہے؟ ہماری تو نہیں سن رہا جس پر خاتون نے چیف جسٹس کو جواب دیا کہ گھر میں میری بات سنتا ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ جب تک یہ وفادار صاحب آپ کے ساتھ وفادار ہیں ملک میں رہ سکتے ہیں۔بعدازاں عدالت عظمی نے کیس کی سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…