جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

کوئی کسی جماعت کو ختم نہیں کر سکتا، شاہد خاقان عباسی

datetime 30  مئی‬‮  2023 |

کراچی(این این آئی)سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ جس کا بھی دباؤ تھا کم از کم جعلی کیس پر نیب اب معافی مانگ لے۔احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کیس احتساب عدالت میں نہ چلانے کی درخواست پر فیصلہ آیا ہے، اس حوالے سے میں نے درخواست دائر نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ میں تو کہتا رہا کہ کیس چلائیں تاکہ عوام کو پتہ چل سکے

یہاں جو 2 گواہ آئے انہوں نے ہمارے خلاف کوئی بات نہیں کی، نئے چیئرمین نیب کیا اب افسران سے سوال کریں گے کہ جھوٹے کیس کیوں بنائے؟شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ 3 سال سے ادارے کا اور ہمارا وقت ضائع کیا گیا، عوام سمجھ رہی تھی کہ پتہ نہیں کتنا بڑا کیس ہے، ہمیں بتایا جائے کہ ہم نے کون سے اختیارات کا غلط استعمال کیا۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری زندگی مفلوج بنائی گئی، بدنامی الگ ہوئی اور مالی نقصان بھی ہوا، عمران کہتے ہیں کہ انہوں نے کوئی کیس نہیں بنایا، چیئرمین نیب کی ذمے داری ہے کہ جھوٹے کیسز بنانے پر تحقیقات کریں۔انہوںنے کہاکہ آج بھی کہتا ہو ںکیمروں کے سامنے کیس چلایا جائے، عمران خان کی طرح بھاگنے والوں میں سے نہیں، سیاسی لیڈر سینہ تان کر مقابلہ کرتا ہے، نیب اور پاکستان ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نیب پاکستان کو نقصان پہنچانے والا ادارہ ہے، افسران اور کابینہ نیب کے ڈر کی وجہ سے فیصلے نہیں کرتے، ارباب اختیار اب اس معاملے کو سمجھیں، جب تک نیب کا ادارہ ہے ملک نہیں چل سکتا۔انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کے لیے بنایا گیا ادارہ اب ختم کر دینا چاہیے، نیب کی کارکردگی اب سامنے لانی چاہیے، اب فیصلہ ہو گا کہ کونسی عدالت میں یہ کیس چلے گا، سیاسی لوگوں پر جو کیس ہیں ان کے حقائق عوام کے سامنے رکھنے چاہیے۔انہوںنے کہاکہ کوئی کسی جماعت کو ختم نہیں کر سکتا، جس ملک میں جمہوریت نہیں ہو گی الیکشن چوری ہوں گے تو پھر بوجھ پڑے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…