جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

کوئی کسی جماعت کو ختم نہیں کر سکتا، شاہد خاقان عباسی

datetime 30  مئی‬‮  2023 |

کراچی(این این آئی)سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ جس کا بھی دباؤ تھا کم از کم جعلی کیس پر نیب اب معافی مانگ لے۔احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کیس احتساب عدالت میں نہ چلانے کی درخواست پر فیصلہ آیا ہے، اس حوالے سے میں نے درخواست دائر نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ میں تو کہتا رہا کہ کیس چلائیں تاکہ عوام کو پتہ چل سکے

یہاں جو 2 گواہ آئے انہوں نے ہمارے خلاف کوئی بات نہیں کی، نئے چیئرمین نیب کیا اب افسران سے سوال کریں گے کہ جھوٹے کیس کیوں بنائے؟شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ 3 سال سے ادارے کا اور ہمارا وقت ضائع کیا گیا، عوام سمجھ رہی تھی کہ پتہ نہیں کتنا بڑا کیس ہے، ہمیں بتایا جائے کہ ہم نے کون سے اختیارات کا غلط استعمال کیا۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری زندگی مفلوج بنائی گئی، بدنامی الگ ہوئی اور مالی نقصان بھی ہوا، عمران کہتے ہیں کہ انہوں نے کوئی کیس نہیں بنایا، چیئرمین نیب کی ذمے داری ہے کہ جھوٹے کیسز بنانے پر تحقیقات کریں۔انہوںنے کہاکہ آج بھی کہتا ہو ںکیمروں کے سامنے کیس چلایا جائے، عمران خان کی طرح بھاگنے والوں میں سے نہیں، سیاسی لیڈر سینہ تان کر مقابلہ کرتا ہے، نیب اور پاکستان ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نیب پاکستان کو نقصان پہنچانے والا ادارہ ہے، افسران اور کابینہ نیب کے ڈر کی وجہ سے فیصلے نہیں کرتے، ارباب اختیار اب اس معاملے کو سمجھیں، جب تک نیب کا ادارہ ہے ملک نہیں چل سکتا۔انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کے لیے بنایا گیا ادارہ اب ختم کر دینا چاہیے، نیب کی کارکردگی اب سامنے لانی چاہیے، اب فیصلہ ہو گا کہ کونسی عدالت میں یہ کیس چلے گا، سیاسی لوگوں پر جو کیس ہیں ان کے حقائق عوام کے سامنے رکھنے چاہیے۔انہوںنے کہاکہ کوئی کسی جماعت کو ختم نہیں کر سکتا، جس ملک میں جمہوریت نہیں ہو گی الیکشن چوری ہوں گے تو پھر بوجھ پڑے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…