منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

پاکستانی سفیر مسعود خان کی امریکی محکمہ خارجہ کے قونصلر ڈیرک شولے سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر گفتگو

datetime 18  اکتوبر‬‮  2022 |

واشنگٹن(این این آئی)جوہری اثاثوں کی حفاظت کے حوالے سے پاکستان کے عزم اور صلاحیت پر امریکہ کو اعتماد ہے۔ یہ بیان امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان کی جانب سے پاکستانی سفیر مسعود خان اور اامریکی محکمہ خارجہ کے قونصلر ڈیرک شولے کی ملاقات کے بعد دیا گیا ۔

قونصلر شولے امریکی وزیر خارجہ کے سینئر پالیسی مشیر ہیں۔ پاکستانی سفیر سے ملاقات کے بعد امریکی قونصلر شولے نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ وہ سفیر پاکستان مسعود خان سے پاکستان اور امریکہ کے مابین دیرینہ شراکت داری اور دونوں ملکوں کی عوام اور خطے کے مفاد کے لئے متعدد شعبوں بشمول صحت، زراعت، تعلیم، انٹرپنیو شپ، توانائی اور دیگر شعبہ جات میں دوطرفہ تعلقات کو مزیدبڑھانے پر بات چیت کرنے کے لئے ملے۔ پاکستانی سفیر مسعود خان نے اپنے ٹوئٹ میں مثبت کردار ادا کرنے پر قونصلر شولے کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہوں نے قونصلر شولے سے پاک امریکہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور دونوں ملکوں کے درمیان تذویراتی اعتماد کے فروغ کے حوالے سے بات چیت کی۔ پاکستانی سفیر نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ اعلیٰ سطحی دوروں، عوامی سطح پر تبادلوں اور ملاپ اور موثر ابلاغ سے دو طرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوتے رہیں گے۔ سفیر پاکستان مسعود خان اور قونصلر شولے کی ملاقات کے بعد امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان ویدانت پٹیل نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکہ ہمیشہ سے ایک محفوظ اور خوشحال پاکستان کو اپنے مفادات کے لئے اہم سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے مابین ایک مضبوط شراکت داری پائی جاتی ہے اور امریکہ پاکستان کے ساتھ دیرینہ شراکت داری کی قدر کرتا ہے۔

ترجمان محکمہ خارجہ نے حالیہ دنوں میں دونوں اطراف سے اعلیٰ سطحی دوروں جن میں پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا دورہ امریکہ اور امریکی قونصلر ڈیرک شولے اور یو ایس ایڈ کی ایڈمنسٹریٹر سمانتھا پاور کا دورہ پاکستان شامل ہیں کا ذکر کیا۔ ترجمان نے کہا کہ ہم پاک امریکہ تعلقات کو اہم سمجھتے ہیں اور پاکستان کے ساتھ گہرے طور پر وابستہ ہیں۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…