گیم آف تھرونز کیلئے ہر چیز کو اسٹیک پر لگا دیا ہے، چیف جسٹس اطہر من اللہ

  پیر‬‮ 5 ستمبر‬‮ 2022  |  16:03

اسلام آباد(آن لائن)چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ عمران خان پبلک میں کیسے کہہ سکتے ہیں کونسا آرمی چیف محب وطن ہے یا نہیں، کیا سیاسی قیادت ایسی ہوتی ہے ؟ آپ کس جانب جارہے ہیں کیوں، آئینی اداروں کو نقصان پہنچا رہے ہیں ، غیر ذمہ دار بیان سے دنیا کو کیا پیغام دیا جارہا ہے،ہر کوئی آئین کے ماتحت ہے،اس طرح کے غیر ذمہ دار بیانات دیں گے

تو اس کے نتائج بھی ہوں گے ۔عمران خان کی براہ راست تقریر پر پابندی کے پیمرا آرڈر کے خلاف درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کی ۔اس موقع پر عمران خان کی جانب سے بیرسٹر علی ظفر عدالت میں پیش ہوئے ،سماعت کے دوران پیمرا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شوکاز نوٹس جاری کرنے کا مقصد صرف تقریر میں ڈیلے (تاخیر) کرنا تھا،عدالت نے وکیل پیمرا سے استفسار کیا کہ ’آپ ڈیلے پالیسی پر عمل درآمد کیوں نہیں کرتے؟ عدالت نے ریمارکس دیے کہ بڑے ذمہ دار لوگ غیر ذمہ دارانہ بیان دیتے ہیں آپ نے قانون کے مطابق کام کرنا ہے، عدالت کوئی مداخلت نہیں کرے گی اس موقع پر وکیل پیمرا نے کہا کہ ہماری ہدایات کسی ایک خاص شخص کے لیے نہیں تھیں عدالت نے استفسار کہ کیا آپ اس عدالت کے آخری آرڈر سے متفق ہیں؟ جس پر پیمرا کے وکیل نے عدالت سے اتفاق کیاعدالت نے عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر سے مکالمہ کیا کہ چیزیں مشکل نہ بنائیں آپ کے موکل کی جانب سے بھی غیر زمہ دارانہ بیان دیا گیااس دوران پیمرا وکیل نے کہا کہ ٹی وی پر چیزیں تاخیر سے چلانے پر سپریم کورٹ کا بھی فیصلہ موجود ہے ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جو کہا ہے وہ تو پیمرا نے کرنا ہی ہے ،جس پر عدالت نے کہا کہ آپ پبلک میں کیسے کہہ سکتے ہیں کہ کوئی آرمی چیف محب وطن ہے یا نہیں؟عدالت نے بیرسٹر علی ظفر سے استفسار کیا کہ اتوار کے روز جلسے میں عمران خان کی جانب سے جو بیان دیا گیا کیا

وہ آئینی اور ٹھیک ہے؟ آپ پبلک میں کیسے کہہ سکتے ہیں کہ کوئی آرمی چیف محب وطن ہے یا نہیں؟ آپ کس جانب جارہے ہیں کیوں آئینی اداروں کو نقصان پہنچا رہے ہیں جس طرح کے بیانات آپ دے رہے آپ اپنے آپ کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں آپ کے اس غیر زمہ دار بیان سے دنیا کو کیا پیغام دیا جارہا ہے جو پبلک میں بیان دیا گیا وہ آرٹیکل 19 کے زمرے میں بھی نہیں آتا

عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ کوئی سوچ سمجھ کر سوچے کہ ہر کوئی کیا کررہا ہے ہر کوئی آئین کے ماتحت ہیں ہر کسی کو آئین کا خیال رکھنا چاہیے اگر اسی طرح غیر زمہ دار بیانات دیں گے تو اس کے نتائج بھی ہوں گے سیاسی لیڈر کا بیان اپنے کارکنان کو کسی بھی قسم کے بیان سے متاثر کرتے ہیں،

پیمرا کو سپریم کورٹ کے آرڈر پر عمل درآمد کرنے دیں اس موقع پر عمران خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پیمرا صرف ایک شخص کی براہ راست تقریر پر پابندی نہیں لگا سکتا، اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ اس طرح کے غیر ذمہ دار بیان دیں گے تو پابندی کیسے نہیں ہوگی یہ کوئی کہہ سکتا ہے کہ پاک فوج اس ملک کے محب وطن نہیں عدالت نے استفسار کیا کہ

پیمرا نے سپریم کورٹ کے ٹائم ڈیلے پالیسی پر عمل درآمد کیوں نہیں کیا؟ پیمرا کی جانب سے وکیل نے جواب دیا کہ ہم نے ٹائم ڈیلے پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کرنے کا طریقہ کار بنایا ہے اور نوٹسز بھی جاری کئے ہیں، ہم پالیسی پر عملدرآمد کرائیں گے اس درخواست کو نمٹایا جائے ،

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس قسم کے غیر ذمہ دارانہ بیان پر آپ توقع کرتے ہیں کہ عدالت لائسنس دے؟ اس وقت ملک میں کیا حالات چل رہے ہیں کیا سیاسی قیادت ایسی ہوتی ہے عدالت نے کہا کہ اگر کوئی غیرقانونی کام کرتا ہے تو سب تنقید کرتے ہیں، اپنی بھی خود احتسابی کریں کہ آپ کرنا کیا چاہ رہے ہیں آپ چاہتے ہیں جو مرضی کہتے رہیں اور ریگولیٹر ریگولیٹ بھی نہ کرے ،

عدالتوں سے ریلیف کی امید نہ رکھیں ،یہ عدالت کا استحقاق ہے ،انہوں نے کہا کہ ہر شہری محب وطن ہے کسی کے پاس یہ سرٹیفکیٹ دینے کا اختیار نہیں ،آرمڈ فورسز کے بارے میں جو شہید ہو رہے ہیں اس طرح کی بات کیسے کی جا سکتی ہے؟آرمڈ فورسز کے بارے میں بیان دے

کر آپ ان کا مورال ڈاؤن کرنا چاہتے ہیں؟ کوئی بیان دے کہ کوئی محب وطن ہے اور کوئی محب وطن نہیں ہے پھر آپ کہتے ہیں ان کو کھلی چھٹی دے دیں عدالت نے کہا کہ جو کچھ اتوار کے روز کہا گیا کیا اس کو کیا اس کا کوئی جواز پیش کیا جا سکتا ہے؟اس وقت آرمڈ فورسز عوام کو ریسکیو کر رہے ہیں

کیا کوئی اس بیان کو جسٹیفائی کر سکتا ہے؟ جب آپ پبلک میں کوئی بیان دیتے ہیں تو اس کی اثر زیادہ ہوتا ہے ،عدالت نے پیمرا کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ریگولیٹ کرنے کا حکم دیتے ہوئے عمران خان کی درخواست نمٹا دی۔



زیرو پوائنٹ

عاشق مست جلالی

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎