منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

انسانی خودغرضی سے پیدا ہونیوالے نقصانات سے سمندروں کو بچانے کیلئے عالمی برادری ،سمندری حیاتیات کے ماہرین مل کر بیٹھیں، بلاول بھٹو زرداری

datetime 8  جون‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی) چیئرمین پیپلز پارٹی و وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ انسانی خودغرضی کی وجہ سے پیدا ہونیوالے نقصانات سے سمندروں کو بچانے کیلئے عالمی برادری ،سمندری حیاتیات کے ماہرین مل کر بیٹھیں، دریائوں کے پانی پر غیرمنصفانہ کنٹرول کی وجہ سے سمندروں کے ڈیلٹائی علاقے تیزی سے ختم ہو رہے ہیں،پاکستان بطور ایک ذمہ دار ملک

اقوام متحدہ کی تھیم’’حیات نو،سمندر کیلئے اجتماعی کارروائی ‘‘ کو اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا ۔سمندروں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں پی پی پی چیئرمین و وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ رپورٹس ہیں کہ سمندر میں بڑی مچھلیوں کی تعداد میں 90فیصد کمی اور مونگے کی چٹانوں کی 50فیصد تباہ ہوچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانی خودغرضی کی وجہ سے پیدا ہونے والی یہ صورتحال پاکستان سمیت عالمی برادری کیلئے انتہائی تشویشناک ہے۔انہوں نے کہا کہ سمندر کرہ ارض پر 50فیصد آکسیجن پیدا اور انسانوں کی پیدا کردہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کا 30فیصد جذب کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دریائوں کے پانی پر غیرمنصفانہ کنٹرول کی وجہ سے سمندروں کے ڈیلٹائی علاقے تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دریائوں کے بالائی حصوں پر غیرفطری ڈیموں کی تعمیر اور پانی کے قدرتی راستوں میں رکاوٹیں ڈالنا پانی پر غیر منصفانہ کنٹرول ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک تحقیق کے مطابق انڈس ڈیلٹا کا 2.4ملین ایکڑ رقبہ سمندر برد ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر سمندری کٹائو اسی رفتار سے جاری رہا تو 2035ء تک ساحلی تحصیل شاہ بندر سمندر برد ہو جانے کا خدشہ ہے۔انہوں نے کہا کہ سمندری کٹاو کی موجودہ شرح برقرار رہی تو 2050ع تک سمندر ٹھٹھہ شہر تک پہنچ جانے کا خدشہ ہے۔انہوں نے کہا کہ انسانی خودغرضی کی وجہ سے پیدا ہونیوالے نقصانات سے سمندروں کو بچانے کے لیے عالمی برادری اور سمندری حیاتیات کے ماہرین مل کر بیٹھیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بطور ایک ذمہ دار ملک اقوام متحدہ کی تھیم Revitalisation: Collective Action for the Oceanکو اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…