منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

سول ایوی ایشن کی کارکردگی گرچکی، ان کا کام نہیں ائیرپورٹ چلانا، چیف جسٹس

datetime 25  اکتوبر‬‮  2021 |

کراچی(این این آئی)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے ہیں کہ کیا مذاق کر رہے ہیں آپ لوگ؟، آپ سو سال پرانا نظام چلا رہے ہیں، آپ کی کارکردگی گر چکی، آپ کا کام نہیں ائیر پورٹ چلانا۔ پیرکوسپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سول ایوی ایشن اراضی کو

کمرشل استعمال کرنے کے کیس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس گلزار احمد نے سول ایوی ایشن کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آپ کی زمین پر تو شادی ہال چل رہے ہیں، کیا آپ کا کام شادیاں کرانا ہے، آپ کو زمین نہیں چاہئے تو لوگوں کو واپس کر دیں، کوئی کام تو کریں، زمین کا استعمال تو کریں، آپ پارک بناتے ہیں نہ اس کا درست استعمال کرتے ہیں، آپ کی زمین پر قبضے ہو رہے ہیں، کہاں ہیں ڈی جی سول ایوی ایشن؟۔نمائندہ سول ایوی ایشن نے عدالت کو بتایا کہ ڈی جی کابینہ اجلاس کے لیے اسلام آباد میں ہیں۔ عدالت نے برہم ہوتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ وزیراعظم تو ملک سے باہر ہیں، ان کے بغیر کیا کابینہ کا اجلاس ہو سکتا ہے، کیا کہنا چاہتے ہیں، عدالت کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں؟، کیا مذاق کر رہے ہیں آپ لوگ؟، آپ سو سال پرانا نظام چلا رہے ہیں، ایک چھوٹے سے جزیرے پر سیکٹروں جہاز ہوتے ہیں، کیا دنیا کے ائیرپورٹ نہیں دیکھے آپ لوگوں نے؟، آپ نے سب ائیرلائنز کو بھگا دیا، کچھ سمجھ میں آرہا ہے آپ کو؟، آپ کا کام نہیں ائیر پورٹ چلانا۔جسٹس اعجازالحسن نے استفسار کیا کہ کیا شادی ہال سول ایوی ایشن کا کام ہوتا ہے؟۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سول ایوی ایشن کے کام کا اندازہ ہو چکا ہے، جہازوں کی مدت ختم ہو چکی۔ سول ایوی ایشن کے نمائندے نے عدالت کو کہا کہ کارکردگی بہتر ہو رہی ہے۔ سول ایوی ایشن کے وکیل نے کہا کہ نیو ائیر پورٹ کے لیے 209 ایکٹر اراضی درکار ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کی کارکردگی بہتر نہیں گر چکی۔ عدالت نے ڈی جی سول ایوی ایشن کو طلب کرلیا، جب کہ سینئر ممبر بورڈ سے نیو ائیر پورٹ اراضی کی سروے رپورٹ بھی طلب کرلی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…