ہم ملک کے دفاع، سلامتی اور بقا کا تحفظ ہر قیمت پر کرتے رہیں گے ، عمران خان

  پیر‬‮ 6 ستمبر‬‮ 2021  |  16:24

اسلام آباد (این این آئی)یوم ِدفاع وشہداء کے موقع پر وزیراعظم عمران خان نے وطن کی سلامتی اور تحفظ کیلئے اپنی قیمتی جانیں قربان کرنے والے قوم کے بہادر بیٹوں کو سلام پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ ہماری امن کی خواہش کو ہماری کمزوری ہرگز نہ سمجھا جائے، خطے کے لوگوں کی خوشحالی اوربہتری کیلئے اس کا جواب اسی مثبت انداز میں دیاجانا چاہیے ،بد قسمتی سے ماضی میںہندوستان،افغان سر زمین کو پاکستان میں بد امنی اور دہشت گردی کی کاروائیوں کے لیے استعمال کرتا رہاہے ،اقوام عالم کو جارحانہ رویئے پر ہندوستان کو ذمہ دار ٹھرانا چاہیے،ہم ملک کے


دفاع، سلامتی اور بقا کا تحفظ ہر قیمت پر کرتے رہیں گے ۔ اپنے بیان میں انہوںنے کہاکہ زندہ قومیں آزمائشوں سے گزر کر اور بھی زیادہ مضبوط ہو جاتی ہیں، 1965ء میں جب دشمن نے ہماری آزادی اور بقاء کو پامال کرنے کی کوشش کی تو پاکستانی قوم مضبوط چٹان کی طرح اس کے سامنے ڈٹ گئی، 6 ستمبر کو ہندوستان نے پاکستان پر غیراعلانیہ جنگ مسلط کی تو پوری قوم محافظان وطن کی حمایت میں اٹھ کھڑی ہوئی، بہت سے لوگ نہتے پیدل ہی سرحدوں کی جانب چل پڑے،قومی ہم آہنگی اور یکجہتی کے اس عظیم مظاہرے نے ہماری بہادر مسلح افواج کے جذبوں کو اور بھی مہمیز لگا دی اور وہ دشمن کے خلاف اس بے خوفی سے لڑے کہ دنیا میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ انہوںنے کہاکہ ہمارے بہادر افسروں، جوانوں، پائلٹوں اور اور سیلروں نے دنیا پر ثابت کردیا کہ وطن کے ایک ایک انچ کی حفاظت کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں، چاہے اس کے لئے انہیں کوئی بھی قیمت چکانا پڑے،وہ اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر جرات و بہادری سے لڑے اورعظیم قربانیوں پیش کرتے ہوئے دفاع وطن کا فریِضہ نبھانے میں کامیاب ہوئے۔انہوںنے کہاکہ 6 ستمبر کا عظیم دن، ہر سال ہمیں اپنے ہیروز، مسلح افواج کے جانبازوں اور خاص طور پر ان شہداء اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، جو ہمیشہ سے قوم کی امید اور فخررہے ہیں،ہم وطن کی سلامتی اور تحفظ کے لئے اپنی قیمتی جانیں قربان کرنے والے قوم کے ان بہادر بیٹوں کو سلام پیش کرتے ہیں، ہم شہداء کی فیملیز کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو مادرِ وطن پر نچھاور کردیا۔انہوںنے کہاکہ آج یہ دن مناتے ہوئے میں یہ کہوں گا کہ دشمن نے کبھیبھی پرامن بقائے باہمی کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک اس نے پاکستان پر کئی جنگیں مسلط کی ہیں۔ 1948 ، 1965ء یا 1971ء ہویا دو دہائیوں پر محیط دہشت گردی کے خلاف جنگ،پاکستان کے اندر تخریبی سرگرمیاں ہوں یا پھرسائبر وار فیئرکے ذریعے پراپیگنڈہ، دشمن ہمارے خلاف کارروائیاں کرتا چلا آرہا ہے،بد قسمتی سے ماضی میں ہندوستان،افغان سر زمین کو پاکستان میں بد امنی اور دہشت گردی کی کاروائیوں کے لیے استعمال کرتا رہا۔ آج کے دن ہم ان گھناونے ہتھکنڈے اپنانے والے عناصر کی مذمت کرتے ہوئے اپنی بہادر افواج کو خصوصاً وطن عزیز کے لیے ان کی لازوال قربانیوں کوخراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ اقوام عالم کو اس جارحانہ رویئے پر ہندوستان کو ذمہ دار ٹھرانا چاہیئے۔ ہمیں فخر ہے کہ ہماری سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرکے ہندوستان کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ہے، دنیا جان گئی ہے کہ کس طرح وہ علاقائی اور خاص طور پر پاکستان کے امن کو تہہ و بالا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ہماری حکومت کی موثر خارجہ پالیسی کی وجہ سے عالمی برادری اب جان چکی ہے کہ کس طرح بھارتی حکومت پورے ہندوستان میںاقلیتوں اور مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر مظالم ڈھا رہی ہے۔ وہ اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ امن کا واحد راستہ مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل ہے۔ ہندوستان کو جلد یا بدیر کشمیریوں کو ان کا حق رائے دہی دینا پڑے گا۔ ہم ہندوستان کا انتہاپسندانہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کرتے رہیں گے۔ عالمی برادری کے معتبر حلقے، امن کی خاطر کی جانے والی ہماری کوششوں کو تسلیم کررہے ہیں۔ اس موقع پر میں ایک بار پھر یہ بات واضح کردینا چاہتا ہوں کہ ہماریامن کی خواہش کو ہماری کمزوری ہرگز نہ سمجھا جائے، بلکہ اس خطے کے لوگوں کی خوشحالی اوربہتری کیلئے اس کا جواب اسی مثبت انداز میں دیاجانا چاہئے۔انہوںنے کہاکہ آج کے دن میں اپنی بہادر مسلح افواج کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہم نے یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کا دفاع مضبوط اور ناقابل تسخیر بنانے کے لئے ایک طویل سفر طے کیا ہے،ہماری باحوصلہ قوم اورمضبوط مسلحافواج نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ ہم دفاع وطن کی نہ صرف بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ کسی بھی قسم کی جارحیت سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ آیئے، جنگ ستمبر کے ولولہ انگیز جذبوں کواپنے دلوں میں ہمیشہ تازہ رکھیں۔ یہ جذبے آئندہ درپیش تمام چیلنجز میں سرخرو ہونے کے لئے کافی ہیں، آیئے، اپنے شہدا اور غازیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عہد کی تجدید کریں کہ ہم ملک کے دفاع، سلامتی اور بقا کا تحفظ ہر قیمت پر کرتے رہیں گے۔


زیرو پوائنٹ

نئی سیاسی کھچڑی

’’کرکٹ اگر مذہب ہوتا تو پورا برصغیر اس مذہب کا پیروکار ہوتا‘‘ یہ فقرہ کسی نے کہا تھا اور سچ کہا تھا‘ یہ واقعی حقیقت ہے سارک ممالک کرکٹ کے جنون میں مبتلا ہیں اور یہ خواہ کتنے ہی منقسم کیوں نہ ہوں یہ لوگ کرکٹ پر ایک ہو جاتے ہیں‘ پاکستان بھی اس جنون کی اعلیٰ ترین مثال ہے‘ ....مزید پڑھئے‎

’’کرکٹ اگر مذہب ہوتا تو پورا برصغیر اس مذہب کا پیروکار ہوتا‘‘ یہ فقرہ کسی نے کہا تھا اور سچ کہا تھا‘ یہ واقعی حقیقت ہے سارک ممالک کرکٹ کے جنون میں مبتلا ہیں اور یہ خواہ کتنے ہی منقسم کیوں نہ ہوں یہ لوگ کرکٹ پر ایک ہو جاتے ہیں‘ پاکستان بھی اس جنون کی اعلیٰ ترین مثال ہے‘ ....مزید پڑھئے‎