اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

’’پوری رات روتا رہا ہوں۔۔۔‘‘ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی جانب سے آج عید کروانے پر سابق چیئرمین مفتی منیب الرحمان کا بیان سامنے آگیا

datetime 13  مئی‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے سابق چیئرمین مفتی منیب الرحمن نے کہا ہے کہ رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے پر میں پوری رات روتا رہا ہوں۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مفتی منیب الرحمان نے رویت ہلال کمیٹی پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت کو من پسند ، کٹھ پتلی رویت ہلال کمیٹی چاہیے تھی، رویت ہلال کمیٹی مسجد قاسم خان کے

مفتی شہاب الدین کا انتظار کر رہی تھی جیسے ہی انہوں نے چاند دیکھے جانے کا اعلان کیا انہوں نے بھی کر دیا، رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے پر میں پوری رات روتا رہا ہوں۔مفتی منیب نے مزید کہا کہ ہماری میٹنگ میں کسی وزیر کی جرات نہیں تھی کہ وہ بیٹھے ، میں وصیت کرتا ہوں کہ تمام مسلمان ایک روزہ قضا رکھیں ، معتکف بھی روزے کی حالت میں ایک روز کا اعتکاف کریں۔مفتی منیب کا کہنا ہے کہ قوم عید کے بعد قضا روزہ رکھے اور اعتکاف کرنے والے بھی ایک روز اعتکاف کریں، جب کہ مفتی محمد غوث کا کہنا ہے کہ آج بروز جمعرات 13 مئی کو عید نہیں تھی مگر انتشار سے بچنے کیلئےعید کی نماز ادا کی گئی۔ مفتی منیب الرحمان نے بھی عید کے اجتماع سے خطاب میں کہا کہ حکومت نے انتشار سے بچنے اور یکجہتی کے اظہار کیلئے ایک ہی روز عید کا فیصلہ کیا۔ رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے پر میں پوری رات روتا رہا ہوں۔مفتی منیب نے مزید کہا کہ ہماری میٹنگ میں کسی وزیر کی جرت نہیں تھی کہ وہ بیٹھے ، میں وصیت کرتا ہوں کہ تمام مسلمان ایک روزہ قضا رکھیں ، معتکف بھی روزے کی حالت میں ایک روز کا اعتکاف کریں۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…