ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

پروٹوکول نہ ہی وزیر اعظم آفس کا کوئی عملہ عمران خان کا اسلام آباد کے مختلف علاقوں کااچانک دورہ

datetime 2  مئی‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، اے پی پی)وزیراعظم عمران خان نے بغیر پروٹوکول وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان اپنی گاڑی خود چلا رہے تھے، وزیراعظم کے ہمراہ چیئرمین سی ڈی اے عامر احمد علی بھی موجود تھے، وزیراعظم کے ساتھ وزیراعظم آفس کے عملے کا کوئی اہلکار نہیں تھا۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ وزیراعظم نے ارجنٹائن پارک، ٹریک فائیو، مرغزار اور مارگلہ روڈ کا دورہ کیا اور شجرکاری مہم میں لگائے گئے پودوں کو بھی چیک کیا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے اسلام آباد میں مرمت کی گئی سڑکوں کا معائنہ بھی کیا جبکہ وزیراعظم کو چیئرمین سی ڈی اے نے ترقیاتی کاموں پر بریفنگ دی۔دریں اثنا وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اسلام نے سماجی انصاف کے اصولوں اور محنت کشوں کے حقوق کا احترام کرنے پر خصوصی زور دیا ہے، موجودہ حکومت محنت کشوں اور ان کے اہلخانہ کو گھر ، تعلیم اور صحت کی سہولتیں فراہم کرنے اور ان کے حالات کو بہتر بنانے کیلئے پرعزم ہے، حکومت کورونا کی وبا کے باعث محنت کشوں بالخصوص روزانہ اجرت پر کام کرنے والوں کو درپیش چیلنج سے پوری طرح آگاہ ہے اور کم آمدن والے محنت کشوں کیلئے حکومت نے ’’مزدور کا احساس ‘‘پروگرام شروع کیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے محنت کشو ں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا۔

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ یکم مئی ہمیں ان کارکنوں کی قربانیوں ، بہادری اور عزم کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے اپنے بنیادی حقوق کو برقرار رکھنے اور کام کے منصفانہ ماحول کے لئے اپنی جانیں نچھاور کیں

۔وزیراعظم نے کہا کہ یہ محنت کشوں کی عظمت کی علامت ہونے کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی موقع فراہم کرتا ہے کہ اپنے اندرون اور بیرون ملک محنت کشوں کے قومی تعمیر کیلئے انمول خدمات کا اعتراف کریں۔انہوں نے کہا کہ اسلام سماجی انصاف اور محنت کشوں کے حقوق کا احترام

کرنے پر خاص طور پر زور دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی کئی احادیث میں محنت کشوں کے حقوق ، ان کو مناسب معاوضہ کی ادائیگی اور محنت کش طبقہ کے ساتھ منصفانہ سلوک کو یقینی بنانے کی تعلیم دی گئی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت محنت کشوں کو کام کرنے کا بہتر

ماحول، گھر، تعلیم اور ان ا ور ان کے اہلخانہ کو صحت کی سہولیات کی فراہمی کے ذریعے ان کے حالات کو بہتر بنانے کیلئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد کارکنوں کے فلاحی اداروں کے لئے خودکار ، مربوط نظام وضع کرنا ہے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جاسکے

اور کارکنوں کو ریلیف کی فراہمی میں تاخیر کو کم کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے لیبر مارکیٹ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پیشہ وارانہ تربیت اور ہنر کی ترقی کے پروگرام شروع کئے ہیں تاکہ محنت کشوں کو اندرون و بیرون ملک ملازمتوں کے بہتر مواقع

میسر آ سکیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت کووڈ۔19 سے بالخصوص محنت کشوں کیلئے پیدا ہونے والی صورتحال اور چیلنجز سے بھی پوری طرح آگاہ ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہماری پالیسی یہ ہے کہ محنت کشوں کی جان اور ان کے معاش کے تحفظ کے مابین توازن ہو اور وہ اس

وبا کے دوران اپنے اور اپنے خاندانوں کیلئے مناسب ذریعہ معاش کمانے کے بھی قابل ہوں۔ ہمارا مزدور کا احساس پروگرام معاشرے کے کم آمدن محنت کشوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم اپنے محنت کشوں کو اپنا سمجھتے ہیں اور ان کے حوالہ

سے اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہیں، ہم اس امر کو یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہیں کہ اقتصادی ترقی کے ثمرات سے محنت کشوں سمیت آبادی کے تمام طبقات خوشحال ہوں۔وزیراعظم نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے کارکنوں اور ملک کی خوشحالی کیلئے بہترین کوششیں کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…