ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

بغیر سحری روزہ ،بچے بھی ٹھنڈا کھانا کھانے پر مجبور لند ن میں پاکستانیوں کیساتھ ناروا سلوک، قرنطینہ عذاب بن گیا

datetime 18  اپریل‬‮  2021 |

لندن ، اسلام آباد(این این آئی)لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ کے قریب ہوٹل میں قرنطینہ کرنے والے بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ہوٹل میں مقیم حسنین شیخ نے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ تین وقت سے کھانا ہی نہیں ملا،بعض افراد بغیر سحری کے روزہ رکھنے پر مجبور ہیں۔

بچوں کو ٹھنڈا کھانا دیا گیا ،مچھلی کھانے سے فوڈ پوائزنگ کی شکایات ہوئیں۔یاد رہے کہ ریڈ لسٹ میں شامل ممالک سے آنے والے مسافر 10 دن ہوٹل میں لازمی قیام پر مجبور ہیں۔دوسری جانب وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری برطانیہ میں پاکستانیوں کو قرنطینہ کرانے کے طریقہ کار پر شدید برہم ہوگئیں ۔ اپنے بیان میں شیریں مزاری نے کہاکہ برطانیہ میں لازمی طور پر ہر شہری کودس دن قرنطینہ میں گزارنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ قرنطینہ میں گزارنے والے افراد سے فی شخص 1700 پاؤنڈز کی وصولی شرمناک ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستانی ہونے کی وجہ سے ان کیساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا جا رہا ہے،پاکستانی اور پاکستانی نژاد شہریوں کیساتھ اس طرح کا امتیازی سلوک پاکستان کو مزید ریڈ لسٹ میں ڈالنے کا عکاس ہے۔ انہوں نے کہاکہ وائرس کی کیسز میں اضافہ ہونے اور نئی خطرناک قسم سے پھیلنی والے انڈیاجیسے ممالک کے حوالے سے مگر اسطرح کا کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…