جہانگیرترین گروپ کی باتیں سننےکو تیار ہوں

  بدھ‬‮ 14 اپریل‬‮ 2021  |  20:07

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک/آن لائن )وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ1سال اور 3ماہ میں اچانک چینی کی قیمت میں اضافہ ہوا جس کی وجہ سے ایف آئی اے کو تحقیقات کیلئے احکامات دیے ۔ میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے جہانگیر ترین کے سوال پر کہا ہے کہ سوا سال میں چینی کی قیمت 26روپے کا اضافہ ہوا ہے ۔میں کیا کرتا انہوں نے کارٹیل بنا کرعوام کو لوٹا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہمیں سب کی بات سننے کےلئے تیار ہوں ، یہ نہیں ہوسکتا غریب کیلئےقانون اور امیر کے لیے اور ہو۔عمران خان نے مزید کہا کہ وفاقی


کابینہ میں 3،2 تبدیلیاں کچھ روز میں ہوجائیں گی، 70،60شوگر ملز کی جیبوں میں 144ارب روپےچلےگئے، کسی کو تحفظات ہوں تو بات کر سکتا ہوں، جن لوگوں نے اربوں روپےکرپشن کی ان کے شواہد موجود تھے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز تحریک انصاف کے رہنما جہانگیرترین کے حامی ارکان نے وزیراعظم عمران خان کے نام خط لکھا جس میں کیس کی تحقیقات کے لیے غیر جانبدار تحقیقاتی ٹیم بنانیکا مطالبہ کردیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق جہانگیرترین کے حامی اراکین اسمبلی نیوزیراعظم کے نا م خط میں لکھا ہے کہ جہانگیرترین کے نام اور ساکھ کو متاثرکرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اراکین کا کہنا ہے کہ مخالفین ایک منصوبے کے تحت جہانگیرترین کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ جہانگیرترین کے مخالفین وزیراعظم کوگمراہ کر رہے ہیں، وہ کسی تحقیقا ت کے خلاف نہیں بلکہ شفاف ٹرائل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق خط پر ایم این ایز راجا ریاض، خواجہ شیراز، سمیع الحسن، ریاض مزاری، مبین عالم اعوان اور جاوید وڑائچ سمیت 19 اراکین صوبائی اسمبلی کے بھی دستخط ہیں۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے ایک اور ایم پی اے جہانگیر ترین کے کیمپ میں چلے گئے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما جہانگیر ترین کے کیمپ میں ایک اور رکن پنجاب اسمبلی کی شمولیت ہو گئی ہے۔بھکر سے رکن پنجاب اسمبلی سید اکبر نورانی نے جہانگیر ترین سے ملاقات کرکے اظہار یکجہتی کیا۔تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کے ساتھ بھکر کے رکن پنجاب اسمبلی سید اکبر نورانی نے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔اس موقع پر سید اکبر نورانی نے جہانگیر ترین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ زیادتی نہیں ہونی چاہیے ۔


زیرو پوائنٹ

درمیان

یہ ایک ڈاکٹر کی کہانی ہے‘ ڈاکٹر صاحب اس وقت آسٹریلیا میں ہیں اور یہ وہاں ایسی شان دار زندگی گزار رہے ہیں جس کا ان کے کسی کلاس فیلو نے خواب تک نہیں دیکھا تھا‘ ہم سب لوگ زندگی میں ٹاپ کرنا چاہتے ہیں‘ ہم ہر کلاس میں اول آنا چاہتے ہیں‘ ہم بازار کا مہنگا ترین لباس خریدنا ....مزید پڑھئے‎

یہ ایک ڈاکٹر کی کہانی ہے‘ ڈاکٹر صاحب اس وقت آسٹریلیا میں ہیں اور یہ وہاں ایسی شان دار زندگی گزار رہے ہیں جس کا ان کے کسی کلاس فیلو نے خواب تک نہیں دیکھا تھا‘ ہم سب لوگ زندگی میں ٹاپ کرنا چاہتے ہیں‘ ہم ہر کلاس میں اول آنا چاہتے ہیں‘ ہم بازار کا مہنگا ترین لباس خریدنا ....مزید پڑھئے‎