جمعرات‬‮ ، 08 اکتوبر‬‮ 2026 

وہی ہوا جس کی توقع تھی۔۔۔۔ کشمالہ طارق نے مرنیوالوں کے لواحقین کو رام کرلیا ملزم اذلان کے وکیل کا عدالت میں اہم بیان

datetime 16  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)جی الیون حادثے سے متعلق کیس کی سماعت مقامی عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج شیخ محمد سہیل نے کی۔ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے چار افراد میں سے تین کے لواحقین سے راضی نامہ ہو چکا ہے۔جب کہ سرکاری وکیل نے کشمالہ طارق کے بیٹے اذلان کی ضمانت کی مخالف کرتے ہوئے

کہا کہ ابھی ملزم کے پیش کردہ لائسنس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔3 افراد کی حد تک راضی نامہ ہوا ہے تو ورثا کے بیان حلفی سامنے نہیں آئے۔سرکاری وکیل نے استدعا کی کہ ایک متوفی کے ورثا سے ملزم کا کوئی راضی نامہ نہیں ہوا ہے، چار افراد کی جان گئی ہے۔ضمانت کی درخواست منسوخ کی جائے۔دوسری جانب کشمالہ طار ق کے صاحبزادے اذلان نے اپنے متعلق چلنے والی خبروں پر خاموشی توڑتے ہوئے بیان جاری کیا ہے جس میں ان کا کہناتھا کہ یہ پیغام میڈیا اور ان لوگوں کیلئے جو اسلام آباد کی شاہراہ پر حادثے کی صورت میں چار افراد کی موت کاذمہ دار مجھے قرار دے رہے ہیں اور خصوصی طور پر ان کیلئے بھی ہے جو کہ مجھے موت کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں ، مہربانی کریں جا کر پہلے انکوائری کریں اور پھر بات کریں ، میں گاڑی نہیں چلار ہا تھا جس کا ثبوت اسلام پولیس کے ٹول پلازے کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور ٹریفک کیمروں کی ویڈیوز کی صورت میں موجود ہے ، میں اور میری فیملی لاہور سے واپس آرہے

تھے اور حادثہ پیش آگیا ، میں گاڑی سے اپنے والدین کو بچانے کیلئے باہر نکلا ، مجھے ایک لمحے کیلئے ایسا لگا کہ میرے والدین اب نہیں رہے ، جب میں نے ان دونوں کو اٹھایا تو وہ خون میں لت پت تھے ، مہربانی فرما کر ہر چیز کا فیصلہ خود مت کریں اور مجھے ذمہ دار نہ ٹھہرائیں ،

جوقیمتی زندگی اس حادثے میں چلی گئی انہیں واپس نہیں لایا جا سکتا ہے جس کا مجھے بے حد افسوس ہے ،لیکن یہ حالات بہت ہی دل توڑ دینے والے ہیں ، لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ یہ ایک حادثہ تھا ، یہ اقدام ارادی طورپر نہیں اٹھایا گیا ، مجھے اور ایلیٹ کلچر کو ذمہ دارٹھہرانے سے اس

کا کوئی تعلق نہیں ہے ،ہم سب سے پہلے انسان ہیں اور مجھ میں بھی انسانیت موجود ہے ، میری فیملی بھی اس وقت بہت مشکل ترین وقت سے گزر رہی ہے لیکن لوگ ایسا نہیں سوچتے ، وہ سوچتے ہیں طاقت اور پیسہ رکھنے والے لوگ انسا ن نہیں ، میں جائے حادثہپر آخر تک پولیس

کے ساتھ موجود تھا تو ایسا کہنا کہ میں وہاں سے بھاگ گیا تھا ، یہ سراسر جھوٹ ہے ۔ اذلان کا اپنے پیغام میںمزید کہناتھا کہ مجھے کسی کے سامنے اپنی صفائی پیش کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی مجھے خدا کے علاوہ کسی کا ڈر ہے لیکن مجھے ان اموات کا ذمہ دارقرار دینا غلط ہے ،

پولیس کے پاس واضح ثبوت موجود ہے ، آپ جائیں اور مجھے ذمہ دار قرار دینے سے قبل قانون کے مطابق اس کی تصدیق کر سکتے ہیں، ان لوگوں کیلئے بھی دعا کریں جو اس حادثے میں دنیا سے رخصت ہو گئے ، اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…