جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے طرز سیاست پر مولانا فضل الرحمن آگ بگولہ مریم نواز سے ہونیوالی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

datetime 31  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد ( آن لائن)پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی مرکزی قیادت کے درمیان سینیٹ انتخاب اور ضمنی الیکشن میں حصہ لینے سمیت استعفوں کے معاملے پر اختلافات ابھی تک ختم نہیں ہو سکے بلکہ پیپلز پارٹی کے یکطرفہ فیصلوں پر ن لیگ نے اعتراضات اٹھا دیئے ہیں ۔

دوسری طرف پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں طرز سیاست پر شدید تنقید کی ہے اور دو ٹوک فیصلوں کے لئے پی ڈی ایم کا اہم اجلاس کل رائے ونڈ میں نواز شریف کی رہائش گاہ پر ہوگا جس کی صدارت مولانا فضل الرحمن کریں گے ،اجلاس میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو سمیت پی ڈی ایم کے دیگر سربراہ شرکت کریں گے اور اس میں فیصلہ ہوگا استعفے کب دینے ہیں اور سینیٹ کا الیکشن لڑنا ہے یا نہیں ۔دوسری طرف بدھ کی رات پی ڈی ایم کے سربراہ مولانافضل الرحمن سے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی سربراہی میں ملنے والے لیگی وفد کی ملاقات کی اندروانی کہانی سامنے آئی ہے ،ملاقات میں مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی ،ملاقات میں نوازشریف اور مریم نواز نے پیپلز پارٹی کے یک طرفہ فیصلوں پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ بلاول نے خود میثاق پاکستان پر دستخط کیے اب فیصلوں سے

ہٹ رہے ہیں۔جس پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں پیپلز پارٹی سے دو ٹوک بات ہوگی،تمام باتیں کھل کر کی جائیں گی اور دوٹوک الفاظ میں کہا کہ جس نے اپنی الگ اینٹ کی مسجد بنانی ہے وہ پی ڈی ایم کا حصہ نہیں رہے گا۔مولانا نے مسلم لیگ فنکشنل

کے رہنما محمد علی درانی کی شہباز شریف سے ملاقات پر نواز شریف سے ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی مداخلت کے خلاف لڑ رہے ہیں آپ کے بھائی ان کے نمائندوں سے مل رہے ہیں،مولانا نے شاہد خاقان عباسی کے بیرون ملک جانے پر بھی اعتراض کیا

اور کہا کہ کس کی اجازت سے وہ بیرون ملک گئے جب طے ہے کہ حکومت سے مذاکرات نہیں ہونگے تو پھر بیک ڈور رابطے کیوں ہیں،جس پر نواز شریف نے کہا کہ شہباز شریف سے ہونے والی ملاقات پر آپ پریشان نہ ہوں وہ وہی کرینگے جو پی ڈی ایم کا فیصلہ ہوگا،ملاقات کے دوران مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوں نے کہا کہ آصف زرداری کے بھی تو اسٹیبلشمنٹ سے رابطے ہیں۔ملاقات کے دوران مسلم لیگ (ن) نے سینیٹ الیکشن لڑنے کی حامی بھری ہے اور کہا کہ پی ڈی ایم متحد ہو کر سینیٹ الیکشن لڑے جس کے بعد استعفے پیش کئے جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…