اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

برطانیہ کا نواز شریف کو مزید رکھنے سے انکار سابق وزیراعظم کی اگلی پنا ہ گاہ سعودی عرب ہونے کا امکان

datetime 22  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن )کے قائد نواز شریف اس وقت لندن میں موجود ہیں،انہیں طبی بنیادوں پر ملک سے باہر بھیجا گیا تھا، مگران کا علاج تو نہ ہو سکا لیکنکچھ ماہ بعد ہی لندن میں سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا۔حکومت بھی نواز شریف کو لندن

بھیج کر پچھتا رہی ہے،نواز شریف کی وطن واپسی کے امکانات بھی نظر نہیں آرہے۔کہا جاتا ہے کہ نواز شریف کو دوست ممالک کی مدد حاصل ہے جس میں سعودی عرب شامل ہے۔سینئر صحافی صابر شاکر کا کہنا ہے کہ اس طرح کی خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ نواز شریف کسی نئی پناہ گاہ کی تلاش میں ہیں۔اسی پر تجزیہ پیش کرتے ہوئے سینئر صحافی چوہدری غلام حسین کا کہنا ہے کہ تین دن قبل ہمارے پاس خبریں سامنے آئی تھیں کہ نواز شریف سے ایک سعودی وفد ملا ہے۔یہ ملاقات نواز شریف کے بیٹے کے دفتر میں ہوئی۔دونوں کے درمیان کافی دیر تک بات چیت ہوتی رہی،انہوں نے مزید کہا کہ مریم نواز نے جو آخری پریس کانفرنس کی تھی اس میں وہ کافی اکھڑی اکھڑی تھیں۔ان کاکوئی لائحہ عمل سامنے نہیں آرہا تھا۔جس سے واضح ہو رہا تھا کہ برطانوی حکومت نے نواز شریف کو کہا ہے کہ اس سے پہلے پاکستانی حکومت کا آئینی اور قانونی دبائو آئے کہ ایک بندہ جو سزا یافتہ ہے وہ علاج کے لیے لندن گیا ہے لیکن واپس نہیں آ

رہا،اس سے تاثر پیدا ہوتا ہے کہ برطانیہ مجرموں کو پناہ دے رہا ہے تو لہذا نواز شریف یا تو اپنے ملک چلے جائیں یا پھر کہیں اور منتقل ہو جائیں۔اب سعودی عرب نواز شریف کو پناہ دیتا ہے یا نہیں یہ وقت بتائے گا تاہم سعودی عرب میں ایک اہم شخصیت کے شریف خاندان کے ساتھ کاروباری روابط ہیں۔

وہ پہلے بھی شریف خاندان کی مدد کرتے رہے ہیں اور اب مدد کر رہے ہیں۔یاد رہے کہ چند روز قبل وزیر داخلہ شیخ رشید بھی کہہ چکے ہیں کہ نوازشریف اور اسحاق ڈار کواللہ ہی پاکستان واپس لا سکتا ہے ، ابھی تو ان کے واپس آنے کے کوئی امکانات نہیں ہیں ، اس بیان پر وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے بھی انہیں آڑے ہاتھوں لیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…