بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

کورونا سے 4 ماہ کے دوران ایک روز میں سب سے زیادہ افراد چل بسے ،اڑھائی ہزار سے زائدنئے کیسز رپورٹ

datetime 21  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) ملک بھر میں چوبیس گھنٹوں میں 42 افراد اس کرونا وائرس سے چل بسے جو 4 ماہ کے دوران ایک دن میں سب سے زیادہ ہے۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ روز ملک بھر میں کورونا کے 42 ہزار 752 ٹیسٹ کیے گئے۔

جن میں سے پنجاب میں 16275، سنددھ میں 12975، خیبر پختونخوا میں 4615 ، اسلام آباد میں 7052 ، بلوچستان 664، گلگت بلتستان 302 ، آزاد جموں کشمیر میں 896 ٹیسٹ کیے گئے، 24 گھنٹوں کے دوران 2 ہزار 843 نئے کیسز سامنے آئے، اس طرح ایک دن میں کیے گئے ٹیسٹوں میں کورونا مثبت آنے کی شرح 6.6 فیصد رہی۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا سے 42 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جو 4 ماہ کے دوران ایک دن میں سب سے زیادہ ہے، 17 جولائی کو ایک روز میں 49 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ ملک بھر میں اس وبا سے 7603 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔پاکستان میں اب تک کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 3 لاکھ 71 ہزار 508 ہے جن میں سے صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد تین لاکھ 28 ہزار 931 ہوگئی ہے ، ملک میں کورونا کے فعال مصدقہ کیسز کی تعداد 34 ہزار 974 ہے،ملک بھر میں کورونا کے 2122 مریض ہسپتالوں میں داخل ہیں جن مین سے 246مریض

وینٹی لیٹر پر ہیں۔کورونا وبا ملک میں داخل ہونے کے بعد کئے ٹیسٹس کی روشنی میں اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ سندھ ہے جہاں اب تک ایک لاکھ 61 ہزار 28 افراد اس سے متاثر جب کہ 2799 جاں بحق ہوچکے ہیں۔پنجاب میں مصدقہ کورونا مریضوں کی تعداد ایک

لاکھ 13 ہزار 457 ہے ، اس وبا سے اب تک دو ہزار 826 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں اس وائرس کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 43 ہزار 730 اور ایک ہزار 323 اموات ہوئی ہے، بلوچستان میں 16 ہزار 699 افراد میں کورونا کی رصدیق ہوئی جب کہ 158 لقمہ اجل بنے ہیں۔اسلام آباد میں اب تک 26 ہزار 177 افراد اس وبا سے متاثر ہوئے ہیں ، ہلاکتوں کی تعداد 270 ہے۔ اسی طرح آزاد کشمیر کورونا مریضوں کی تعداد 5911 جب کہ جاں بحق افراد کی تعداد 134 ہے، گلگت بلتستان میں مریض 4 ہزار 506 اور اموات 93 ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…