جمعہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2025 

کبھی کبھی سوچتا ہوں ڈاکوؤں کو این آر او دے دوں اور زندگی آسان ہوجائے مگر ایسا کرنے سے کیا تباہی آسکتی ہے ؟ وزیراعظم عمران خان کا دوٹوک اعلان

datetime 16  اکتوبر‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کبھی کبھی سوچتا ہوں ڈاکوؤں کو این آر او دے دوں اور زندگی آسان ہوجائے مگریہ تباہی کا راستہ ہے،مشکل فیصلے ہی آپ کوآگے لے جاتے ہیں، ملک درست سمت میں آرہے ہیں ،ہم نے ملک کو بہتر کرنا ہے تو ڈالرز کو باہر جانے کے بجائے ملک میں آنا چاہیے،مقامی سطح پرکارڈیک اسٹنٹ کی تیاری اہم پیش رفت ہے۔

جمعہ کو نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی(نسٹ) سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران نے کہا کہ میں اپنی خوشی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ دسمبر میں میرے آنے کے بعد سے اب تک نسٹ نے بہت اہم اور بنیادی چیز پیدا کی۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مقامی سطح پرکارڈیک اسٹنٹ کی تیاری اہم پیش رفت ہے، دنیا میں کم ملک ہیں جو اپنے اسٹنٹ بنارہے ہیں، جو ملک نیوکلیئر ٹیکنالوجی بنا سکے اس کیلئے چیزیں آسانی ہونی چاہئیں تھیں۔انہوں نے ملکی معیشت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہر تھوڑی دیر میں ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے کیونکہ ہمارے پاس ڈالرز کی کمی ہوتی ہے تو زرمبادلہ ختم ہوجاتے ہیں اور جب زرمبادلہ کم ہوں گے تو روپیہ گرے گا جس سے مہنگائی آئیگی۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم پام آئل، گھی، تیل اور دالوں سمیت کئی اشیاء درآمد کرتے ہیں، اس طرح سے ہی ملک غریب ہوتا ہے، اگر ہم نے ملک کو بہتر کرنا ہے تو ڈالرز کو باہر جانے کے بجائے ملک میں آنا چاہیے۔عمران خان نے کہا کہ جب طیب اردوان اقتدار میں آئے تو ترکی کا حال ہمارے جیسا تھا وہاں بھی جمہوریت پنپ نہیں رہی تھی اور انہیں بھی آئی ایم ایف جانا پڑتا تھا تاہم انہوں نے منصوبہ بندی کرکے برآمدات بڑھائیں مگر ہم نے کبھی نہیں سنا کہ برآمدات بڑھانا ہے، 60 کی دہائی میں ہماری برآمدات بڑھ رہی تھیں اور اس وقت ہماری سمت درست تھی لیکن 70 میں ایک کنفیوژ مائنڈ سیٹ اسلامک سوشل ازم کے ساتھ آگیا، بد قسمتی سے نیشنلائزیشن شروع ہوگئی اور آج تک پاکستان اس مائنڈ سیٹ نہیں نکلا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم سرمایہ کاری لانے اور کاروبار چلانے کی کوشش کررہے ہیں اور اس سلسلے میں ہمارا سب سے بڑا اثاثہ سمندر پار پاکستانی ہیں جو سب سے زیادہ محب وطن لوگ ہیں لیکن جب ہماری حکومت آئی تو افسوس ہوا کہ یہ لوگ پاکستان نہیں آرہے۔عمران خان نے کہا کہ ملک درست سمت میں جارہا ہے، مشکل فیصلے ہی آپ کوآگے لے جاتے ہیں اور مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں، کبھی کبھی میرے سامنے بھی دو راستے آجاتے ہیں، سارے ڈاکو شور مچاتے ہیں، میرے لیے آسان راستہ ہے کہ اپوزیشن کو معاف کردوں تو میرے پانچ سال آسانی سے گزر جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ کبھی کبھی سوچتا ہوں ڈاکوؤں کو این آر او دے دوں اور زندگی آسان ہو جائے، پھر ہم بھی پارلیمنٹ میں تقریریں کریں گے تاہم یہ تباہی کا راستہ ہے اس لیے زندگی میں مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں اور وہی فیصلے آپ کو اوپر لے کر جاتے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…

مورج میں چھ دن

ہمیں تیسرے دن معلوم ہوا جس شہر کو ہم مورجس (Morges)…