اتوار‬‮ ، 22 فروری‬‮ 2026 

انصاف ہو تو ایسا 3 ججوں کی تنزلی، 2 کی پنشن روک دی گئی

datetime 6  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پشاورہائیکورٹ کے ماتحت عدلیہ کے جوڈیشل اپیلٹ ٹربیونل نے 3ڈسٹرکٹ سیشن ججوں کی تنزلی ،2کی پنشن روکنے اورایک سینئرسول جج کی برطرفی کے احکامات کالعدم قرار دیتے ہوئے ان ججوں کواپنے عہدوں پربحال کردیا۔

روزنامہ جنگ میں شائع امجد صافی کی خبر کے مطابق سیشن جج کے عہدے پربحال ہونے والے ججوں میں عامرنذیر ، ڈاکٹرخورشید اقبال اورصوفیہ وقارخٹک شامل ہیں، اصغرسالارزئی کو بطورسول جج بحال کردیاگیا جبکہ دو ریٹائرڈسیشن ججوں سبحان شیراورحیات علی شاہ کی پنشن بحال کردی گئی ہے ان ججز کو جوڈیشل اکیڈمی میں بھرتیوں میں مبینہ طور پر رولز پرعملدرآمد نہ کرنے اوراہل افراد کو نظرانداز کرنے پرمختلف سزائیں دی گئی تھیں، چیئرمین جسٹس لعل جان خٹک اور جسٹس اعجازانورپر مشتمل ٹربیونل نے ان ججز کی مختلف اپیلوں پر سماعت کی ۔ عدالت کو بتایا گیا کہ جوڈیشل اکیڈمی میں بھرتیوں کے معاملے پر اس وقت کے پشاورہائی کورٹ کے رجسٹرار سبحان شیر اور ڈائریکٹر جنرل جوڈیشل اکیڈمی حیات علی شاہ کی پنشن دوسال کے عرصے کیلئے بند کی گئی، اسی طرح دیگر کمیٹی ممبران سیشن ججز عامرنذیر،ڈاکٹر خورشید اقبال اور صوفیہ وقار خٹک کی ایڈیشنل سیشن ججز کے عہدے پر تنزلی کی گئی جبکہ ایک کمیٹی ممبر سینئر سول جج اصغرسلارزئی کوبرطرف کیا گیا۔

ریٹائرڈ ججز سبحان شیر اور حیات علی شاہ پر بھرتی کیلئے سفارش کا الزام تھا جس پر انکی پنشن دوسال کیلئے بند کی گئی، پشاور ہائیکورٹ کے لیگل ایڈوائزر نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ جوڈیشل اکیڈمی میں تقرریوں کا معاملہ پشاور ہائیکورٹ میں ایک رٹ کے ذریعے چیلنج کیا گیا

اور ان احکامات کی روشنی میں وہاں پر تمام ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا جس کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ جوڈیشل اکیڈمی میں کی گئی تقرریاں بغیر اشتہار کے کی گئی ہیں اس کے ساتھ ساتھ زیادہ تر کمیٹی ممبران نے اپنے رشتہ داروں کو بھرتی کیا جس کے باقاعدہ ثبوت پشاور ہائی کورٹ کے ایڈمنسٹریٹو کمیٹی کے پاس موجود ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…