پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

اپوزیشن نے آرمی چیف کو وزیر اعظم عمران خان کی شکایت لگا دی،ملاقات کے دوران کیا باتیں ہوئیں؟ میٹنگ میں شریک سراج الحق کے اہم انکشافات

datetime 22  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پارلیمانی رہنمائوں کی عسکری قیادت سے ملاقات کے حوالے سے امیرجماعت اسلامی سراج الحق نے بتایا کہ پوزیشن رہنمائوں میں سے ایک نے آرمی چیف کو بتایا کہ اس قومی اہمیت کے حامل معاملے پر ایسی ملاقات وزیراعظم عمران خان کو بلانا چاہئے تھی۔

اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ وزیراعظم قومی اہمیت کے حامل معاملات پر بھی اپوزیشن کے ساتھ مل بیٹھ کر بات نہیں کرتے۔ روزنامہ جنگ میں انصار عباسی کی شائع خبر کے مطابق جماعت ا سلامی کے سربراہ نے کہا کہ جن رہنمائوں نے ملاقات میں شرکت کی ان میں شہباز شریف، بلاول بھٹو، خواجہ آصف، شیری رحمن، احسن اقبال، مولانا اسعد محمود، خالد مقبول، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر فاروق حیدر، ڈاکٹر جمال دینی، شاہ محمود قریشی، شیخ رشید اور دیگر شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر وہ اجلاس میں اپنی مصروفیات کی وجہ سے شرکت کیلئے تیار نہ تھے لیکن بعد میں جب بتایا کہ ملاقات میں گلگت بلتستان اور کشمیر کے معاملے پر بات ہوگی تو وہ آمادہ ہوگئے۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں شرکت سے قبل انہوں نے کشمیری قیادت سے بات کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ عسکری قیادت چاہتی ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو آئینی حیثیت دی جائے جو کئی برسوں سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں۔

اجلاس میں یہ تجویز سامنے آئی کہ جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہو جاتا اس وقت تک گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کا اعلان کیا جائے۔ سراج الحق نے انکشاف کیا کہ عسکری قیادت کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے پر جماعت اسلامی کا موقف جانتی ہے جبکہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ

کا اصرار ہے کہ یہ معاملہ فی الحال چھوڑ دیا جائے اور گلگت بلتستان میں آئندہ الیکشن کے بعد زیر بحث لایا جائے تاکہ اس معاملے کو کوئی بھی سیاسی جماعت انتخابی مہم کا حصہ نہ بنا سکے۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ آیا اجلاس میں سیاست پر بات ہوئی تو جماعت اسلامی کے سربراہ نے بتایا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ سیاست دانوں کی ملاقات ہو اور وہ سیاست پر بات نہ کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…