اپوزیشن نے آرمی چیف کو وزیر اعظم عمران خان کی شکایت لگا دی،ملاقات کے دوران کیا باتیں ہوئیں؟ میٹنگ میں شریک سراج الحق کے اہم انکشافات

  منگل‬‮ 22 ستمبر‬‮ 2020  |  11:03

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پارلیمانی رہنمائوں کی عسکری قیادت سے ملاقات کے حوالے سے امیرجماعت اسلامی سراج الحق نے بتایا کہ پوزیشن رہنمائوں میں سے ایک نے آرمی چیف کو بتایا کہ اس قومی اہمیت کے حامل معاملے پر ایسی ملاقات وزیراعظم عمران خان کو بلانا چاہئے تھی۔اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ وزیراعظم قومی اہمیت کے حامل معاملات پر بھی اپوزیشن کے ساتھ مل بیٹھ کر بات نہیں کرتے۔ روزنامہ جنگ میں انصار عباسی کی شائع خبر کے مطابق جماعت ا سلامی کے سربراہ نے کہا کہ جن رہنمائوں نے ملاقات میں شرکت کی ان میں شہباز شریف،


بلاول بھٹو، خواجہ آصف، شیری رحمن، احسن اقبال، مولانا اسعد محمود، خالد مقبول، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر فاروق حیدر، ڈاکٹر جمال دینی، شاہ محمود قریشی، شیخ رشید اور دیگر شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر وہ اجلاس میں اپنی مصروفیات کی وجہ سے شرکت کیلئے تیار نہ تھے لیکن بعد میں جب بتایا کہ ملاقات میں گلگت بلتستان اور کشمیر کے معاملے پر بات ہوگی تو وہ آمادہ ہوگئے۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں شرکت سے قبل انہوں نے کشمیری قیادت سے بات کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ عسکری قیادت چاہتی ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو آئینی حیثیت دی جائے جو کئی برسوں سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں۔اجلاس میں یہ تجویز سامنے آئی کہ جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہو جاتا اس وقت تک گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کا اعلان کیا جائے۔ سراج الحق نے انکشاف کیا کہ عسکری قیادت کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے پر جماعت اسلامی کا موقف جانتی ہے جبکہ پیپلز پارٹی اور نون لیگکا اصرار ہے کہ یہ معاملہ فی الحال چھوڑ دیا جائے اور گلگت بلتستان میں آئندہ الیکشن کے بعد زیر بحث لایا جائے تاکہ اس معاملے کو کوئی بھی سیاسی جماعت انتخابی مہم کا حصہ نہ بنا سکے۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ آیا اجلاس میں سیاست پر بات ہوئی تو جماعت اسلامی کے سربراہ نے بتایا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ سیاست دانوں کی ملاقات ہو اور وہ سیاست پر بات نہ کریں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

صرف تین ہزار روپے میں

دنیا میں جہاں بھی اردو پڑھی جاتی ہے وہاں لوگ مختار مسعود کو جانتے ہیں‘ مختار مسعود بیورو کریٹ تھے‘ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر رہے‘ لاہور کا مینار پاکستان ان کی نگرانی میں بنا‘ یہ اس وقت لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے‘ چارکتابیںلکھیںاور کمال کر دیا‘ یہ کتابیں صرف کتابیں نہیں ہیں‘ یہ تاریخ‘ جغرافیہ اور پاکستان کے ....مزید پڑھئے‎

دنیا میں جہاں بھی اردو پڑھی جاتی ہے وہاں لوگ مختار مسعود کو جانتے ہیں‘ مختار مسعود بیورو کریٹ تھے‘ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر رہے‘ لاہور کا مینار پاکستان ان کی نگرانی میں بنا‘ یہ اس وقت لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے‘ چارکتابیںلکھیںاور کمال کر دیا‘ یہ کتابیں صرف کتابیں نہیں ہیں‘ یہ تاریخ‘ جغرافیہ اور پاکستان کے ....مزید پڑھئے‎