اتوار‬‮ ، 22 فروری‬‮ 2026 

ایکسپریس ٹریبیون سے وابستہ صحافی گرفتاری کے اگلے دن ہی رہا بلال فاروقی نے آخر ایسا کیا کیا؟ سنگین الزامات کی لمبی چوڑی فہرست آگئی

datetime 12  ستمبر‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی،مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی سے تعلق رکھنے والے صحافی بلال فاروقی کو رہا کر دیا گیا۔ انہیں ڈیفنس میں واقع ان کی رہائش گاہ سے جمعہ کی شام سادہ لباس افراد اور پولیس اہلکاروں نے گرفتار کیا تھا۔

ترجمان سندھ حکومت مرتضی وہاب نے صحافی بلال فاروقی کی رہائی سے متعلق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اطلاع دیتے ہوئے کہاکہ انہیں بخیریت گھر واپس پہنچادیا گیا ہے۔بلال فاروقی کی اہلیہ کے مطابق ان کے شوہر کو گرفتار کرکے لے جانے والے افراد ایک گھنٹے بعد ان کے گھر واپس آئے اور ان سے بلال کا موبائل فون جو گھر پر ہی رہ گیا تھا لے کر دوبارہ چلے گئے۔ان کی اہلیہ کو بتایا گیا کہ بلال ڈیفنس پولیس اسٹیشن میں ہیں تاہم ان کی تسلی نہ ہونے پر بلال سے ان کی ایک منٹ تک موبائل فون پر بات بھی کروائی گئی۔ایس ایس پی پولیس سائوتھ شیراز نذیر نے بتایاکہ بلال کیخلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 505 اور پریونشن آف الیکٹرونک ایکٹ 2016 کے سیکشن 11 اور 20 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔سیکشن 505 کے تحت جرم ثابت ہونے پر کسی بھی شخص کو 7 برس قید کی سزا ہوسکتی ہے جبکہ سیکشن 11 پر بھی اتنی ہی مدت متعین ہے۔ سیکشن 20 کے تحت 3 برس قید کی سزا اور 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوسکتا ہے۔

انہوں نے بتایاکہ ایف آئی آر جاوید خان نامی شخص کی جانب سے درج کرائی گئی ہے جن کا موقف ہے کہ بلال فاروقی نے اپنے فیس بک اور ٹویٹر اکائونٹس پر مذہبی منافرت کی بنیاد پر انتہائی سخت بیانات دیئے۔جاوید خان لانڈھی کی ایک فیکٹری میں مشین آپریٹر ہیں۔

انھوں نے بلال فاروقی پر افواج پاکستان کو بدنام کرنے کا بھی الزام عائد کیا ہے۔ ایف آئی آر میں یہ بھی درج ہے کہ بلال کی پوسٹ سے پاکستان کے دشمنوں کو فائدہ ہوسکتا ہے۔بی بی سی کے مطابق بلال فاروقی انگریزی روزنامے ایکسپریس ٹریبیون کے ساتھ وابستہ ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…