منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

عدالت عظمیٰ کا زبردست فیصلہ سپریم کورٹ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو معذور کا لفظ استعمال کرنے سے روک دیا، متبادل الفاظ بھی بتا دئیے

datetime 15  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو معذور کا لفظ استعمال کرنے سے روک دیااور کہا ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومتیں سرکاری سطح پر معزور کا لفظ استعمال کرنا بند کر دیں۔

ہفتہ کو اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہاکہ سرکاری خط و کتابت،سرکولرز اور نوٹی فیکیشن میں معذور نہ لکھا جائے،معذور کی جگہ معذوری کا حامل شخص یا منفرد صلاحیتوں کا حامل شخص لکھا جائے،فیصلہ معزور افراد کے ملازمت میں کوٹہ سے متعلق کیس میں جاری کیا گیا ۔عدالت نے عبید اللہ کو ملازمت نہ دینے کا لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا اور ایک ماہ کے اندر میرٹ کے مطابق معزور کوٹہ پر بھرتیاں کرنے کا حکم دیا ۔ فیصلے میں کہاگیا معذور لفظ استعمال کرنے سے اس شخص کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے،آئین پاکستان معذور افراد کو عام افراد کے مساوی حقوق دیتا ہے۔ فیصلہ میں کہاگیا کہ ڈس ایبل پرسن آرڈیننس کے مطابق کسی شعبے میں ٹوٹل ملازمتوں میں 2 فیصد کوٹہ معذوروں کیلئے مختص ہے،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق پاکستان میں 3.3 ملین سے 27 ملین لوگ معذور ہیں،معاشرے میں معذور افراد کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ فیصلے میں کہاگیاکہ عام تاثر ہے کہ معزور افراد کوئی کام درست انداز میں نہیں کرسکتے،معذور افراد کو ملازمت سرانجام دینے کیلئے خصوصی انتظامات کیے جائیں،معذور افراد کی سہولت کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے،عبید اللہ نے معذور کوٹہ پر ملتان میں سینئر ایلیمنٹری سکول ایجوکیٹر کیلئے اپلائی کیا تھا،81 سیٹوں میں سے صرف عاصمہ قاسم کو معذور کوٹہ پر ملازمت دی گئی،قانون کے مطابق 81 میں سے 5 سیٹیں معزور کوٹہ کی بنتی تھیں ،عبید اللہ نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…