منگل‬‮ ، 24 فروری‬‮ 2026 

شہباز شریف اپوزیشن کیساتھ ہیں یا وہ اسٹیبلشمنٹ کیساتھ مل چکے ہیں ؟ اے پی سی کی تاخیر پر پیپلز پارٹی نے (ن) لیگ سے واضح جواب مانگ لیا

datetime 8  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن ) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی گوسلوپالیسی کی وجہ سے اپوزیشن جماعتوں کی کل جماعتی کانفرنس کا انعقاد خطرے میں پڑ گیا اور پیپلزپارٹی نے (ن) لیگ سے واضح جواب مانگا ہے کہ بتایا جائے کہ شہباز شریف اپوزیشن کے ساتھ کھڑے ہیں یا وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل چکے ہیں اور اے پی سی منعقد نہیں کرنا چاہتے ۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک اے پی سی کی تاریخ تو کیا اس کا ایجنڈا بھی طے نہیں ہوسکا اور اس کی بڑی وجہ بھی دونوں جماعتوں کا ایک پیج پر نہ آنا ہے ۔ اسی بناء پر اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس مزید تاخیر کا شکار ہوگئی۔ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی نے ن لیگ کے علاوہ دیگر جماعتوں کے ساتھ اہم بیٹھک پر غور شروع کردیا۔پیپلزپارٹی نے مسلم لیگ ن کی خاموشی کے بعد آئندہ کی حکمت عملی پر غور شروع کردیا۔ پیپلزپارٹی ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کا موقف ہے کہ مسلم لیگ ن نے عید کے فورن بعد اے پی سے سے متعلق یقین دہانی کرائی تھی ۔عید گزرنے کے باوجود ن لیگ تاحال خاموش ہے۔ذرائع کا کہناہے کہ پیپلزپارٹی نے اے پی سی بلانے پر غور شروع کردیا ہے، غور کیا جا رہا ہے کہ اے پی سی بلاکر ن لیگ کو شرکت کی دعوت دی جائے۔یہ مسلم لیگ ن پر ہے کہ وہ اے پی سی میں شرکت کرتے ہیں یا نہیں۔پیپلزپارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اے پی سی کے علاوہ دیگر جماعتوں کے ساتھ ایک اہم بیٹھک پر بھی غور ہو رہا ہے۔اگر اے پی سی نہیں بلائی جاتی تو ایک دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ایک اہم بیٹھک ہوگی۔پیپلزپارٹی کے ذرائع کاکہنا ہے کہ (ن) لیگ نے ابھی تک اے پی سی کے حوالے سے کوئی واضح جواب نہیں دیا اور اب وہ شہباز شریف کی بجائے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سے رابطہ کرنے پر سوچ بچار کررہے ہیں کیونکہ شہباز شریف مقتد ر اداروں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور انہوں نے حکومت کیخلاف تحریک چلانے یا سپیکر قومی اسمبلی کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے سمیت کسی بھی معاملے کے اوپر اپنی رائے نہیں دی اور اسی وجہ سے اے پی سی کا ایجنڈا بھی نہ بن سکا اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما بھی اس وجہ سے اختلافات کاشکار ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نواز شریف کی سیاست میں انٹری


لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…