منگل‬‮ ، 20 جنوری‬‮ 2026 

شہباز شریف اپوزیشن کیساتھ ہیں یا وہ اسٹیبلشمنٹ کیساتھ مل چکے ہیں ؟ اے پی سی کی تاخیر پر پیپلز پارٹی نے (ن) لیگ سے واضح جواب مانگ لیا

datetime 8  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن ) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی گوسلوپالیسی کی وجہ سے اپوزیشن جماعتوں کی کل جماعتی کانفرنس کا انعقاد خطرے میں پڑ گیا اور پیپلزپارٹی نے (ن) لیگ سے واضح جواب مانگا ہے کہ بتایا جائے کہ شہباز شریف اپوزیشن کے ساتھ کھڑے ہیں یا وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل چکے ہیں اور اے پی سی منعقد نہیں کرنا چاہتے ۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک اے پی سی کی تاریخ تو کیا اس کا ایجنڈا بھی طے نہیں ہوسکا اور اس کی بڑی وجہ بھی دونوں جماعتوں کا ایک پیج پر نہ آنا ہے ۔ اسی بناء پر اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس مزید تاخیر کا شکار ہوگئی۔ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی نے ن لیگ کے علاوہ دیگر جماعتوں کے ساتھ اہم بیٹھک پر غور شروع کردیا۔پیپلزپارٹی نے مسلم لیگ ن کی خاموشی کے بعد آئندہ کی حکمت عملی پر غور شروع کردیا۔ پیپلزپارٹی ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کا موقف ہے کہ مسلم لیگ ن نے عید کے فورن بعد اے پی سے سے متعلق یقین دہانی کرائی تھی ۔عید گزرنے کے باوجود ن لیگ تاحال خاموش ہے۔ذرائع کا کہناہے کہ پیپلزپارٹی نے اے پی سی بلانے پر غور شروع کردیا ہے، غور کیا جا رہا ہے کہ اے پی سی بلاکر ن لیگ کو شرکت کی دعوت دی جائے۔یہ مسلم لیگ ن پر ہے کہ وہ اے پی سی میں شرکت کرتے ہیں یا نہیں۔پیپلزپارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اے پی سی کے علاوہ دیگر جماعتوں کے ساتھ ایک اہم بیٹھک پر بھی غور ہو رہا ہے۔اگر اے پی سی نہیں بلائی جاتی تو ایک دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ایک اہم بیٹھک ہوگی۔پیپلزپارٹی کے ذرائع کاکہنا ہے کہ (ن) لیگ نے ابھی تک اے پی سی کے حوالے سے کوئی واضح جواب نہیں دیا اور اب وہ شہباز شریف کی بجائے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سے رابطہ کرنے پر سوچ بچار کررہے ہیں کیونکہ شہباز شریف مقتد ر اداروں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور انہوں نے حکومت کیخلاف تحریک چلانے یا سپیکر قومی اسمبلی کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے سمیت کسی بھی معاملے کے اوپر اپنی رائے نہیں دی اور اسی وجہ سے اے پی سی کا ایجنڈا بھی نہ بن سکا اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما بھی اس وجہ سے اختلافات کاشکار ہیں ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…