اتوار‬‮ ، 14 جون‬‮ 2026 

’’شوگر کمیشن کی طرف سے 9 بے نامی اکاؤنٹس کی تفصیلات ۔۔‘‘ چینی کی فروخت اصل خریداروں کی بجائے کن لوگوں کے نام پر کی جاتی رہی قومی خزانے کو بھاری چونالگا یا گیا ،تہلکہ خیز انکشافات

datetime 24  اپریل‬‮  2020 |

لاہور(آن لائن)وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو ابتدائی طور پرآ ج ہفتہ کو شوگر انکوائری کمیشن کی طرف سے منتخب کردہ 9 شوگر ملز کے خلاف جاری تحقیقات کے بے نامی اکاؤنٹس کی تفصیلات پیش کیے جانے کا امکان ہے۔انکوائری کمیشن کے ذرائع نیایک نجی ٹی وی کو بتایا ہے کہ ممکنہ طور پر شوگر کمیشن 25 اپریل تک وزیر اعظم کو منتخب کردہ 9 شوگر ملز کے بے نامی اکاؤنٹس کی رپورٹ پیش کرے گا

اور باقی پہلوؤں بارے رپورٹ مکمل کرنے کے لئے کچھ دن کی مہلت کی درخواست کی جاسکتی ہے کیونکہ ان کے متعلق تحقیقات حتمی مراحل میں داخل ہوگئی ہیں۔ذرائع کے مطابق، اب تک کی تحقیقات میں کئی چشم کشا انکشافات سامنے آئے ہیں جن میں اکثر شوگر ملز کی جانب سے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ رکھنے کی بجائے مینوئل طریقے سے رکھنے کی بات سامنے آئی ہے۔ کمیشن نے اس بات کا بھی پتہ چلا لیا ہے کہ چینی مالکان نے مبینہ طور پر اصل خریداروں کو بھی چھپایا ہے جو ابھی تک سامنے نہیں لائے جاسکے۔کمیشن کے مطابق، چینی کی فروخت اصل خریداروں کی بجائے ٹرک ڈرائیوروں کے نام پر ہو رہی تھی جس سے مبینہ طور پر قومی خزانے کو بھاری مالی نقصان پہنچایا جا رہا تھا۔ کمیشن نے ایسے تمام بے نامی خریداروں کا سراغ لگا لیا ہے اور ان کے خلاف اب ایف بی آر بھی الگ سے حرکت میں آگیا ہے۔ کمیشن نے اپنی تحقیقات کے دوران منتخب کردہ تمام ملز پہ چھاپے مار کر تمام ریکارڈ قبضے میں لیا ہوا ہے جس کی چھان بین سے ان سب باتوں کا پتہ چل رہا ہے۔ کمیشن نے قبضے میں لئے ہوئے کمپیوٹرز سے ڈیلیٹ کیا ہوا ڈیٹا بھی دوبارہ حاصل کرلیا ہے۔ذرائع کے مطابق اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ کمیشن نے سستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مبینہ طور پر ابتدائی تحقیقات کے دوران فیلڈ وزٹ دیر سے شروع کی جس سے بہت سا ریکارڈ جو کہ بڑا کارآمد ہوسکتا تھا وہ قبضے میں نہیں لیا جاسکا۔ مثال دیتے ہوئے ذرائع نے بتایا کہ تمام تحقیقاتی ٹیموں نے اپنے فیلڈ وزٹ 20 سے 21 مارچ کے دوران کئے تاکہ گنے کی کسانوں سے خرید، تول اور چینی بننے کے مراحل کو دیکھا جاسکے لیکن 11 مارچ تک گنے کا کرشنگ سیزن ہی ختم ہوچکا تھا۔کمیشن کے ذرائع کے مطابق، جو چینی گزشتہ سالوں میں برآمد کی گئی ہے اس کی 70 فیصد افغانستان کو بیچی گئی ہے جسے تفتیش کار اس نظر سے دیکھ رہے ہیں کہ آیا وہ چینی واقعی افغانستان بھیجی بھی گئی تھی یا یہاں لوکل مارکیٹ میں فروخت کر دی گئی تھی۔ تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کچھ ملز نے مبینہ طور پر اپنا ڈیٹا چھپانے کی کوشش کی ہے جس کی مزید تفتیش ابھی جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نصیب کی مکھی


ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…