اتوار‬‮ ، 14 جون‬‮ 2026 

کرونا سے پیدا صورتحال کی مثال نہیں ملتی، رواں ماہ کے آخر تک کرونا کیسز بڑھنے کا خدشہ ہے، اس صورتحال سے قوم بن کر مقابلہ کرنا ہے، لاک ڈاؤن بارے بھی وزیراعظم نے اہم پیغام دیدیا

datetime 9  اپریل‬‮  2020 |

کوئٹہ(این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا ہے کہ ملک بھر میں لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ 14اپریل کو کیا جائیگا، وفاقی اور صوبائی حکومتیں صورتحال سے نمٹنے کیلئے مل کر کوشاں ہیں، صورتحال کا مل کر مقابلہ کریں گے تو کامیابی حاصل ہوگی،خدشہ ہے رواں ماہ کے آخر تک کورونا کیسز میں اضافہ ہو گا، بلوچستان میں غربت زیادہ ہونے کے باعث اس صوبے کے عوام کے مسائل بڑھے ہیں،

ملک کے غریب اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے محنت کشوں کے ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں کو 12 ہزار روپے فی خاندان کی مدد کے لئے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے ریلیف پروگرام شروع کردیاگیا ہے۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کو گورنر ہاؤس کوئٹہ میں بلوچستان کابینہ اور ارکان صوبائی اسمبلی سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پر گور نربلوچستان جسٹس(ر) امان اللہ یاسین زئی، وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان،وفاقی وزیر اسد عمر بھی انکے ہمراہ تھے۔وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان میں غربت زیادہ ہونے کے باعث اس صوبے کے عوام کے مسائل بڑھے ہیں، ہمیں ملک کے غریب اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے محنت کشوں کی بہت کی فکر ہے، ان کی مدد کے لئے ہم نے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے ریلیف پروگرام کا آغاز کر دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پروگرام کے تحت ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں کو 12 ہزار روپے فی خاندان ادا کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر صوبے کو صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات کرنے ہیں، لاک ڈاؤن کے باعث یومیہ اجرت پر کام کرنے والے متاثر ہو رہے ہیں، صوبے صورتحال کے مطابق لاک ڈاؤن سے متعلق فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں صورتحال سے نمٹنے کیلئے مل کر کوشاں ہیں، صورتحال کا مل کر مقابلہ کریں گے تو کامیابی حاصل ہوگی۔ وزیراعظم نے کہا کہ کورونا وائرس کی وباء اور لاک ڈاؤن سے جن شعبوں کو کھولنے کی ضرورت ہو گی

ان کے بارے میں تمام صوبوں اور آزاد کشمیر حکومت کے ساتھ مشاورت سے 14 اپریل سے لاک ڈاؤن میں نرمی کے حوالے سے کوئی فیصلہ کیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز اور طبی عملہ کو حفاظتی سامان کی فراہمی پر توجہ مرکوز ہے، ڈاکٹرز اور طبی عملہ کو ذاتی حفاظتی سامان فراہم کر دیا گیا ہے، ان کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں اس وقت آئی سی یو میں کورونا کا کوئی بھی مریض نہیں، بلوچستان میں صرف کوئٹہ گنجان آباد ہے جبکہ دیگر علاقوں میں آبادی دور دور ہے جس کے باعث ان علاقوں میں کورونا کا مقابلہ کرنا آسان ہے تاہم راولپنڈی، لاہور، پشاور جیسے بڑے شہروں میں صورتحال خراب ہو سکتی ہے خدشہ ہے کہ ملک میں رواں ماہ کے آخر تک کورونا کیسز میں اضافہ ہو گا،

کورونا سے پیدا شدہ صورتحال کا قوم بن کر مقابلہ کرنا ہے، وفاقی اور صوبائی حکومتیں صورتحال سے نمٹنے کیلئے مل کر کوششیں کر رہے ہیں، ہر صوبے کو صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات کرنے ہیں،کورونا کیسز بڑھنے سے ہسپتالوں پر بوجھ بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہیں، نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر روزانہ کی بنیاد پر صورتحال تجزیہ کرتا ہے اور اس بنیاد پر آئندہ کے اقدامات کئے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کوئی حکومت اکیلے یہ جنگ نہیں جیت سکتی، آج مغربی دنیا بھی وسائل کے باوجود مشکلات کا شکار ہے، ہم بحیثیت قوم مل کر اس آفت کا مقابلہ کریں گے اور یہ جنگ جیتیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان کے دورے کا مقصد یہ تھا کہ یہاں کے عوام کی مشکلات میں کمی لانے کے لئے صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر اقدامات اٹھائے جائیں، اس حوالے سے وزیر اعلیٰ بلوچستان کے ساتھ بات چیت ہوئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نصیب کی مکھی


ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…