بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں فضائی آپریشن معطل ہونے سے 49 مسافر بینکاک میں پھنس گئے حکومت پر برس پڑے ، کھری کھری سنا دیں

datetime 22  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان کی جانب سے ائیر پورٹس کو غیر ملکی پروازوں کے لیے اچانک بند کیے جانے سے مختلف ممالک سے پاکستان کا سفر کرنے والے 49 مسافر بینکاک کے سوورنا بومی ائیر پورٹ پر پھنس گئے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اچانک فیصلے کی ذمہ داری حکومت پاکستان پر ڈال کر تھائی ائیر لائن مسافروں کے قیام و طعام کی ذمہ داری سے دستبردار ہو گئی ہے۔

جس کی وجہ سے خواتین اور بچوں سمیت 49 مسافر سوورنا بومی ائیرپورٹ کے ٹرانزٹ لان میں بے یار و مددگار بیٹھے ہیں۔ تھائی لینڈ کے انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر حلال فوڈ دستیاب ہو بھی جائے تو بیشتر مزدور پیشہ افراد کے پاس اتنی تھائی کرنسی نہیں کہ وہ 4 اپریل تک اپنے اور بیوی بچوں کے لیے کھانے کا بندوبست کر سکیں۔ تھائی ائیرلائن کی دو پروازوں سے اسلام آباد اور لاہور کے لیے سفر کرنے والے ان مسافروں کو ہفتے کی شام اس وقت بنکاک کے سوورنا بومی ائیرپورٹ پر اچانک جہازوں سے اتار دیا گیا جب حکومت پاکستان کی ہدایت پر متعلقہ وزارت نے ملکی ائیر پورٹ بند کرنے کا اچانک نوٹم جاری کیا گیا۔ائیرپورٹ پر پھنسے پاکستانی کورونا وائرس کی دنیا بھر میں شدت کے بعد جاپان، جنوبی کوریا، سنگاپور، ملائیشیا، چین، آسٹریلیا، ویتنام، کمبوڈیا یا دیگر ملکوں سے اپنے وطن کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ ایک مسافر بلور خان نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ وہ حکومت پاکستان کے اچانک حکمنامے کی زد میں آیا ہے۔ بلور خان کے مطابق اس سے پہلے حکومت پاکستان نے کورونا وائرس نہ ہونے کے سرٹیفکیٹ مسافروں کے پاس لازمی ہونے کی پابندی لگائی تھی، اس کے پاس تھائی لینڈ کا ویزہ تھا، وہ فلائٹ چھوڑ کر سرٹیفکیٹ بنوانے کے لیے ائیرپورٹ سے باہر بنکاک شہر میں چلا گیا۔

واپس آکر مذکورہ پرواز کا بورڈنگ پاس لیا اور دیگر مسافروں کی طرح پھنس گیا۔ مسافروں نے شکوہ کیا کہ حکومت پاکستان کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق کم ازکم 72 گھنٹے پہلے کوئی بھی نوٹس جاری کرنا چاہیے تھا اور نہیں تو کم ازکم فضا میں جہازوں میں موجود مسافروں کو وطن واپس پہنچنے دینا چاہیے تھا۔ مسافروں کے مطابق انہوں نے بینکاک میں موجود پاکستانی سفارتخانے سے رابطہ کیا ہے، ان سے تھائی لینڈ کے ویزے جاری کرانے اور ائیرپورٹ سے باہر لے جا کر قیام کرانے کی بات چیت چل رہی ہے۔ مسافروں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پاکستان تھائی حکام سے رابطہ کر کے ان کے لیے خصوصی پرواز کا بندوبست کرے تاکہ وہ اس مشکل گھڑی میں اپنے گھروں تک پہنچ سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…