کوئی بھی خطرہ ذمہ دار اور پرعزم قوم کو شکست نہیں دے سکتا، آرمی چیف وائرس تیزی سے پھیلنے پر پاک فوج کو زبردست احکامات جاری کر دیئے

21  مارچ‬‮  2020

راولپنڈی(این این آئی)آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ کوئی بھی خطرہ ایک ذمہ دار اور پرعزم قوم کو شکست نہیں دے سکتا اور یہ چین نے کرکے دکھایا ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کو سول انتظامیہ کی امدادتیز کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

یہ احکامات وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے بعد جاری کیے گئے ہیں۔آرمی چیف نے کہا کہ ہم کورونا وائرس سے قوم کی حفاظت کے عمل کو مقدس فریضہ کے طور پر انجام دیں گے، پاک فوج قومی کوشش کا حصہ ہوتے ہوئے اس ذمہ داری کو ادا کرے گی، کوئی بھی خطرہ ایک ذمہ دار اور پرعزم قوم کو شکست نہیں دے سکتا جیسا کہ چین نے کر دکھایا ہے، انفرادی نظم و ضبط اور باہمی تعاون تمام اداروں کی کوششوں کو یکجا کرے گا اس میں ہی قومی کامیابی ہو گی۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ہر انفرادی حفاظتی قدم اہمیت کا حامل ہے، انفرادی طور پر کرونا وائرس سے اپنا بچائو کرنا درحقیقت اجتماعی حفاظت کی بنیاد ہے، پہلے انفرادی طور پر ایک ذمہ دار شہری بننا ہے تا کہ اجتماعی سطح پر حکومتی اور اداروں کی کوششیں کامیاب ہو سکیں، ہر پاکستانی کا فرض ہے کہ حکومت اور محکمہ صحت کی کرونا وائرس کے حوالے سے ہدایات پر عمل کرے، ایسا کرنے سے ہی قومی کوشش کامیاب ہو گی۔

موضوعات:



کالم



فواد چودھری کا قصور


فواد چودھری ہماری سیاست کے ایک طلسماتی کردار…

ہم بھی کیا لوگ ہیں؟

حافظ صاحب میرے بزرگ دوست ہیں‘ میں انہیں 1995ء سے…

مرحوم نذیر ناجی(آخری حصہ)

ہمارے سیاست دان کا سب سے بڑا المیہ ہے یہ اہلیت…

مرحوم نذیر ناجی

نذیر ناجی صاحب کے ساتھ میرا چار ملاقاتوں اور…

گوہر اعجاز اور محسن نقوی

میں یہاں گوہر اعجاز اور محسن نقوی کی کیس سٹڈیز…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے (آخری حصہ)

میاں نواز شریف کانگریس کی مثال لیں‘ یہ دنیا کی…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے

بودھ مت کے قدیم لٹریچر کے مطابق مہاتما بودھ نے…

جنرل باجوہ سے مولانا کی ملاقاتیں

میری پچھلے سال جنرل قمر جاوید باجوہ سے متعدد…

گنڈا پور جیسی توپ

ہم تھوڑی دیر کے لیے جنوری 2022ء میں واپس چلے جاتے…

اب ہار مان لیں

خواجہ سعد رفیق دو نسلوں سے سیاست دان ہیں‘ ان…

خودکش حملہ آور

وہ شہری یونیورسٹی تھی اور ایم اے ماس کمیونی کیشن…