جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

درجنوں زائرین قرنطینہ سینٹر سے بھاگ نکلے ،شدید احتجاج،قومی شاہراہ بند ،احتجاج کرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ،سکیورٹی اہلکاروں نے قرنطینہ کو گھیرے میں لے لیا

datetime 14  مارچ‬‮  2020 |

کوئٹہ( آن لائن ) انتظامیہ سے اجازت لیے بغیر چالیس کے قریب زائرین قرنطینہ سنٹر کا دروازہ توڑ کر زبردستی نکل گئے، سیکورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں نے بھاگنے والوں کو سونا خان تھانے کے حدود مِیں پکڑلیا۔سیکورٹی فورسز زائرین کو پکڑ کر واپس ہزارگنجی کورنٹائن مرکز لے گئے جس پر زائرین نے احتجاج شروع کر دیا۔

زائرین کے احتجاج کی وجہ سے کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ ایک گھنٹے تک بند رہی جس کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔لیویز ذرائع کے مطابق زائرین کا مطالبہ ہے کہ انہیں اپنے گھروں کو روانہ کیا جائے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے زائرین میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے اور ان کا تعلق سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا سے ہے۔واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے ہزارگنجی قرنطینہ مرکز کی نگرانی سخت کر دی ہے۔اس سے قبل سرکاری حکام نے بتایا تھا کہ کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے تفتان سرحد پر بنائے گئے قرنطینہ سینٹر میں گنجائش ختم ہوگئی ہے جبکہ زائرین کی آمد ابھی تک جاری ہے۔گنجائش ختم ہونے کے باعث کے سبب مزید آنے والے زائرین کو کویٹہ ہزار گنجی منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ایران میں کورونا وائرس کے بڑھتے مریضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے 23 فروری 2020 کو پاکستان نے زائرین اور دیگر مسافروں کو ہمسایہ ملک جانے سے روک دیا تھا۔ اس ضمن میں سرحدی علاقوں میں طبی ایمرجنسی بھی نافذ کی گئی تھی اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پہ زور دیا گیا تھا۔محکمہ صحت نے پی ڈی ایم اے کی معاونت سے تفتان میں 100 بستروں پر مشتمل خیمہ اسپتال بھی قائم کیا تھا اور موبائل دفتر بھی کام کررہا تھا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…