جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

نیب کے غلط اختیارات کے استعمال سے معیشت پر منفی اثرات مرتب، اسلام آباد ہائیکورٹ نے ملزمان کی گرفتاری پر نیب اختیارات پر اہم سوال اٹھا دیئے

datetime 7  مارچ‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد( آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ نے فور جی لائسنس میں مبینہ کرپشن سے متعلق کیس میں اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ نیب اختیارات کا غلط استعمال گورننس اور معیشت پر منفی اثرات مرتب کررہا ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے فور جی لائسنس میں مبینہ کرپشن سے متعلق کیس میں پی ٹی اے کے ڈی جی عبدالصمد اور ڈائریکٹر امجد مصطفیٰ کی ضمانت منظوری کا 56 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا ہے۔

فیصلہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب کے دستخط سے جاری کیا گیا۔عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں نیب کے ملزمان کی گرفتاری کے اختیارات پر اہم سوال اٹھا دیئے ہیں، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ کرپشن سب سے بڑی برائی ہے جس نے ملک کو کھوکھلا کر دیا، کرپشن نے معاشی ترقی اور قانون کی حکمرانی کو بری طرح متاثر کیا، کرپشن سے غیرملکی سرمایہ کاروں کی بھی حوصلہ شکنی ہورہی ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ کرپشن کی لعنت سے چھٹکارے کے لیے بلا تفریق احتساب ضروری ہے، نیب ایسا ادارہ بنے کہ کرپٹ اس سے ڈریں اور عام لوگوں کا اس پر اعتبار ہو، وائٹ کالر کرائم سے نمٹنے کے لیے تفتیشی افسران کی پیشہ ورانہ تربیت بھی لازم ہے، تفتیشی افسر ملزم کی حاضری یقینی بنانے کے لیے مناسب پابندی عائد کرسکتا ہے تاہم گرفتاری کے صوابدیدی اختیارات کا بے جا استعمال عوامی مفاد کے لیے نقصان دہ ہے، نیب اختیارات کا غلط استعمال گورننس اور معیشت پر منفی اثرات مرتب کررہا ہے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ اسفند یار ولی کیس میں سپریم کورٹ بھی گرفتاری سے متعلق اختیارات کی تشریح کر چکی ہے کہ جرم میں ملوث ہونے کے ناکافی شواہد کی عدم موجودگی پر گرفتار نہیں کیا جا سکتا، گرفتاری سے پہلے نیب کے پاس ٹھوس شواہد ہونا لازمی ہیں، نیب کے پاس ایسے شواہد ہونے لازم ہیں جو ملزم کا جرم سے بادی النظر میں تعلق جوڑیں، نیب کے پاس شواہد ہونے چاہئیں کہ ملزم کی نیت مالی یا ذاتی فوائد لینے کی تھی ، ملزم کے خلاف ٹھوس شواہد کی عدم موجودگی میں اس کی گرفتاری اختیار کا غلط استعمال ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…