بدھ‬‮ ، 25 فروری‬‮ 2026 

کیا سوچے سمجھے بغیر ہی کسی کو بھی اٹھا لیا جاتا ہے؟ واضح کر چکے سویلین کا کورٹ مارشل نہیں ہو سکتا،کرنل انعام الرحیم ریٹائرڈ ہیں ،آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا اطلاق کیسے ہوتا ہے؟سپریم کورٹ نے سوالات اٹھا دئیے

datetime 4  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد (آن لائن)سپریم کورٹ میں کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم ایڈووکیٹ کی رہائی کے حکم کیخلاف حکومتی اپیل پر سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے سوال اٹھایا ہے کہ کرنل انعام ریٹائرڈ ہیں ان پر آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا اطلاق کیسے ہوتا ہے؟

سپریم کورٹ واضح کر چکی سویلین کا کورٹ مارشل نہیں ہو سکتا،سویلین کے کورٹ مارشل کیلئے آئینی ترمیم درکار ہوگی۔ معاملے کی سماعت جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی نے عدالت کو بتایا کہ کرنل انعام کو رہا کر دیا ہے لیکن وہ زیر تفتیش ہیں، کرنل انعام کو عدالتی حکم پر رہا نہیں کیا گیا،کرنل انعام کی رہائی کی وجوہات الگ ہیں،لاہور ہائی کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آ چکا ہے،جو نکات عدالت نے اٹھائے ہیں ان کے جواب کیلئے وقت درکار ہے، متعلقہ حکام سے ہدایات لیکر عدالتی سوالات کے جواب دوں گا۔ایک موقع پر جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دئیے کہ کرنل انعام پر فوج نے سنگین الزامات لگائے پھر خود ہی رہا کر دیا، وجوہات کوئی بھی ہوں بات سنگین الزامات کی ہے،کیا سوچے سمجھے بغیر ہی کسی کو بھی اٹھا لیا جاتا ہے؟آرمی ایکٹ کی دفعہ 94,95 اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 549 پر تیاری کرکے آہیں،سویلین کے کورٹ مارشل سے متعلق نقطے پر بھی معاونت کریں۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کرنل انعام کا کورٹ مارشل سپریم کورٹ کے فیصلوں کی خلاف ورزی ہوگا،سول نوعیت کے جرم پر کورٹ مارشل فوجی افسران کا بھی نہیں ہو سکتا۔

سول نوعیت کا جرم عام آدمی کرے یا فوجی، ٹرائل فوجداری عدالت کریگی،وفاقی حکومت کی اجازت کے بفیر سول نوعیت کے جرم پر کورٹ مارشل نہیں ہو سکتا،فوجداری عدالت کو اختیار ہے کہ سول جرم میں جاری کورٹ مارشل کو روک سکے،کمانڈنگ آفیسر نے دلیل کیساتھ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کورٹ مارشل ہونا ہے کیس عدالت میں جانا ہے۔عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی تین ہفتے کا وقت دینے کی استدعا منظور کرتے ہوئے معاملے کی سماعت تین ہفتے کیلئے ملتوی کر دی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نواز شریف کی سیاست میں انٹری


لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…