جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

کیا سوچے سمجھے بغیر ہی کسی کو بھی اٹھا لیا جاتا ہے؟ واضح کر چکے سویلین کا کورٹ مارشل نہیں ہو سکتا،کرنل انعام الرحیم ریٹائرڈ ہیں ،آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا اطلاق کیسے ہوتا ہے؟سپریم کورٹ نے سوالات اٹھا دئیے

datetime 4  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد (آن لائن)سپریم کورٹ میں کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم ایڈووکیٹ کی رہائی کے حکم کیخلاف حکومتی اپیل پر سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے سوال اٹھایا ہے کہ کرنل انعام ریٹائرڈ ہیں ان پر آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا اطلاق کیسے ہوتا ہے؟

سپریم کورٹ واضح کر چکی سویلین کا کورٹ مارشل نہیں ہو سکتا،سویلین کے کورٹ مارشل کیلئے آئینی ترمیم درکار ہوگی۔ معاملے کی سماعت جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی نے عدالت کو بتایا کہ کرنل انعام کو رہا کر دیا ہے لیکن وہ زیر تفتیش ہیں، کرنل انعام کو عدالتی حکم پر رہا نہیں کیا گیا،کرنل انعام کی رہائی کی وجوہات الگ ہیں،لاہور ہائی کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آ چکا ہے،جو نکات عدالت نے اٹھائے ہیں ان کے جواب کیلئے وقت درکار ہے، متعلقہ حکام سے ہدایات لیکر عدالتی سوالات کے جواب دوں گا۔ایک موقع پر جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دئیے کہ کرنل انعام پر فوج نے سنگین الزامات لگائے پھر خود ہی رہا کر دیا، وجوہات کوئی بھی ہوں بات سنگین الزامات کی ہے،کیا سوچے سمجھے بغیر ہی کسی کو بھی اٹھا لیا جاتا ہے؟آرمی ایکٹ کی دفعہ 94,95 اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 549 پر تیاری کرکے آہیں،سویلین کے کورٹ مارشل سے متعلق نقطے پر بھی معاونت کریں۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کرنل انعام کا کورٹ مارشل سپریم کورٹ کے فیصلوں کی خلاف ورزی ہوگا،سول نوعیت کے جرم پر کورٹ مارشل فوجی افسران کا بھی نہیں ہو سکتا۔

سول نوعیت کا جرم عام آدمی کرے یا فوجی، ٹرائل فوجداری عدالت کریگی،وفاقی حکومت کی اجازت کے بفیر سول نوعیت کے جرم پر کورٹ مارشل نہیں ہو سکتا،فوجداری عدالت کو اختیار ہے کہ سول جرم میں جاری کورٹ مارشل کو روک سکے،کمانڈنگ آفیسر نے دلیل کیساتھ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کورٹ مارشل ہونا ہے کیس عدالت میں جانا ہے۔عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی تین ہفتے کا وقت دینے کی استدعا منظور کرتے ہوئے معاملے کی سماعت تین ہفتے کیلئے ملتوی کر دی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…