پاکستان آئی ایم ایف کے سامنے ڈٹ گیا، وزیراعظم کا بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ نہ کرنے اور شرح سود میں کمی کا فیصلہ، عوام کو خوشخبری سنا دی گئی

  پیر‬‮ 17 فروری‬‮ 2020  |  22:49

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ بجلی اور گیس میں قیمتوں میں کمی لانے کے حوالے سے آؤٹ آف دی باکس حل اور تجاویز پر غور کیا جائے تاکہ وقتی حل نکالنے کی بجائے پائیدار بنیادوں پر قیمتوں میں استحکام لایا جا سکے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔پیر کو وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی لانے اور گھریلو صارفین اور صنعتوں کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں وزیرِ توانائی عمر ایوب، وزیر منصوبہ بندی اسد


عمر، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصی شہزاد قاسم، معاون خصوصی ندیم بابر اور سینئر افسران شریک ہوئے۔وزیرِ اعظم کی ہدایت پر بجلی اور گیس کی قیمتوں خصوصاً گھریلو صارفین اور صنعتوں کے لئے بجلی کی قیمتوں میں استحکام لانے اور ممکنہ حد تک کمی لانے کے حوالے سے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔ وزیرِ اعظم کو بجلی اور گیس کی قیمتوں کی موجودہ صورتحال اور درپیش مسائل سے بھی آگاہ کیا گیا۔معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے گیس کی قیمتوں میں ممکنہ کمی کے حوالے سے طویل المدتی پلان پر مبنی تجاویز پیش کیں۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ بجلی اور گیس کے شعبے میں ماضی کی حکومتوں کی جانب سے کیے گئے معاہدوں کی وجہ سے بجلی اور گیس کا بوجھ عوام کو اٹھانا پڑ رہا ہے، موجودہ حکومت کی کوشش ہے کہ جہاں ایک طرف ان شعبوں میں انتظامی اصلاحات کی جائیں تاکہ چوری اور ضیاع کی مد میں پڑنے والے بوجھ کو کم کیا جا سکے وہاں گھریلو صارفین اور صنعتوں کو مناسب قیمت پر بجلی کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے تاکہ عوام کو ریلیف میسر آئے اور صنعتی شعبے کو فروغ ملے۔ بجلی چوری روکنے کی مد میں وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ موجودہ حکومت کے اقدامات کی وجہ سے بجلی چوری کی روک تھام کے لئے موثر اقدامات کیے گئے جس کا نتیجہ 122 ارب روپے کی آمدنی کی صورت میں برآمد ہوا ہے۔ گردشی قرضوں میں ہونے والے 38 ارب کے ماہانہ اضافے کو کم کر کے 12 ارب تک لایا جا چکا ہے جس کو اس سال کے آخر تک صفر کر دیا جائے گا۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ ماضی میں لگائے جانے والے بجلی کے کارخانوں کی قیمت بھی موجودہ حکومت کو ادا کرنا پڑ رہی ہے اور اس کا اضافی بوجھ بھی عوام کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کی حکومتوں کی جانب سے عوام کی قوت برداشت کو مدنظر رکھے بغیر اور ملکی مفاد کو پش پشت رکھتے ہوئے مہنگے اور غیر منطقی معاہدے اور انتظامات کیے گئے جس کا نتیجہ مہنگی بجلی اور گردشی قرضے کی صورت میں برآمد ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی اولین ترجیح عوام خصوصاً کم آمدنی والے اور غربت کا شکار افراد ہیں اور صنعتوں کا فروغ ہے تاکہ معیشت کا پہیہ چلے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ بجلی اور گیس میں قیمتوں میں کمی لانے کے حوالے سے آؤٹ آف دی باکس حل اور تجاویز پر غور کیا جائے تاکہ وقتی حل نکالنے کی بجائے پائیدار بنیادوں پر قیمتوں میں استحکام لایا جا سکے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔


موضوعات: