اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

ورلڈ بینک کا وہ منصوبہ جوپاکستان کی گزشتہ2حکومتیں بھی نہ بنا سکیں 4کروڑ ڈالر خرچ بھی کر ڈالے، عالمی ادارہ کارکردگی سے شدید مایوس

datetime 16  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن)پاکستان کی گزشتہ2 حکومتوں کی جانب سے 7 کروڑ 30 لاکھ ڈالر مالیت کا ایک چھوٹا آبی منصوبہ آج تک پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا جس کے بعد اب عالمی بینک نے بھی اس حوالے سے اپنی مایوسی کا اظہار کردیا ہے۔عالمی بینک کی جانب سے 12برس قبل 2008 میں دریائے سندھ سے حاصل ہونے والے پانی کے بہتر انتظام اور ترسیل کے حوالے سے اس منصوبے کی منظوری دی تھی۔

تاہم 12برس گزرنے کے بعد اب عالمی بینک نے اس منصوبے پر اپنے عدم اطمینان کا اظہار کردیا ہے۔اس منصوبے کو فروری 2014 میں مکمل ہونا تھا مگر اس میں توسیع کرتے ہوئے اسے جون 2021 تک بڑھادیا گیا تھا۔منصوبے کے حوالے سے اپنی حالیہ رپورٹ میں عالمی بینک نے اسے غیرتسلی بخش قرار دیا ہے کیونکہ رپورٹ کے مطابق اس منصوبے پر کام کی رفتار طے شدہ شیڈول کے مطابق نہیں بلکہ سست روی کا شکار ہے اور مقرر کردہ وقت میہں منصوبے کے تکمیل کے اہداف حاصل نہیں کیے جاسکیں گے۔جون 2008 میں پاکستان میں جمہوری حکومتیں برسر اقتدار ہیں جن میں پہلے پاکستان پیپلز پارٹی نے 5سال حکومت کی یعنی 2008 سے 2013 تک رہی اس کے بعد 2013 سے 2018 تک پاکستان مسلم لیگ نون برسر اقتدار رہی جبکہ 2018 سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم ہے جس نے یہ منصوبے وزارت آبی وسائل کے حوالے کردیا ہے کیونکہ مذکورہ وزارت کو بجلی کی وزارت سے اب الگ کردیا گیا ہے۔عالمی بینک کے مطابق اس منصوبے کے ان بارہ برسوں میں مکمل ہونے کی وجہ بیورو کریسی ہے جس کی وجہ سے یہ منصوبہ آج تک تاخیر کا شکار چلا آرہا ہے اور کسی خاص پیش رفت کے بغیر اب تک پاکستان نے اس کے لیے مختص کردہ 7 کروڑ تیس لاکھ ڈالر میں سے 4 کروڑ ڈالر خرچ کر ڈالے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…