جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

ڈیٹا بیس کے مربوط نظام کی بدولت احساس پروگرام سے کرپشن ختم ہوئی، وزیراعظم عمران خان نے احساس پروگرام کے تحت خواتین کو گائے بھینسیں دینے کا اعلان کر دیا

datetime 31  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ احساس کفالت پروگرام کے لیے مربوط نظام مرتب کرنے سے ایسے 8 لاکھ افراد کی نشاندہی ہوئی جو پروگرام کے مستحق نہیں تھے اور ان پیسہ چوری کرنے والے سرکاری ملازمین بھی شامل تھے،خواتین کا بینک اکاؤنٹ کھلنے سے ان کا پیسہ چوری نہیں ہوگا اور آئندہ کارڈ کے ذریعے یوٹیلیی اسٹور سے خریداری بھی ہوسکے گی۔

جمعہ کو یہاں احساس کفالت پروگرام کے اجزا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ احساس پروگرام کے تحت پہلی مرتبہ 200 ارب روپے مختص کئے اور کوشش تھی کہ جلد از جلد مستحق افراد میں تقسیم کیے جائیں۔وزیراعظم نے مستحق خواتین میں کفالت کارڈ بھی تقسیم کیے اور کفالت پروگرام کے آغاز پر معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ اور تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر کو خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ انسانی تقاضہ ہے کہ کمزور طبقے پر پیسہ خرچ کیا جائے اور احساس پروگرام سے کرپشن دور کی گئی جس کے باعث اللہ کی برکت شامل ہوئی۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ احساس کفالت پروگرام میں دو مثبت چیزیں شامل ہیں کہ خواتین کا بینک اکاونٹ کھلنے سے ان کا پیسہ چوری نہیں ہوگا اور آئندہ کارڈ کے ذریعے یوٹیلیی اسٹور سے خریداری بھی ہوسکے گی۔انہوں نے کہا کہ نادار خواتین کو اسمارٹ فون دینے کی تجویز کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح تعلیمی سرگرمیوں کو فروغ ملے اور لوگ اپنی شکایات بھی درج کرسکیں گے۔عمران خان نے کہا کہ احساس پروگرام کے تحت مستحق خواتین کو گائے بھینسیں دیں گے تاکہ معاشی گرمیوں میں بھی حصہ لے سکیں۔انہوں نے کہا کہ تیسرے پروگرام کے تحت مستحق گھرانے کے بچوں کو اسکالر شپ دیں گے اور ان سب کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان کو فلاحی ریاست بنایا جائے۔وزیراعظم نے کہا کہ 60 لاکھ خاندانوں کو ہیلتھ کارڈ دے چکے ہیں

جس میں 7 لاکھ 20 روپے کی مد میں کہیں بھی جا کر علاج کراچکے ہیں۔ہیلتھ کارڈ کی تقسیم کے منصوبے کو وزیر اعظم عمران خان نے موجودہ حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ قرار دیا۔علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 5 لاکھ نوجوانوں کو ہنر سکھائیں گے تاکہ وہ اپنے لیے روزگار حاصل کرسکیں۔انہوں نے کہاکہ نوجوانوں کو قرضے دیے جائیں گے جس کے تحت انہیں میرٹ کی بنیاد پر بزنس کے لیے رقم فراہم کی جائے گی جس سے اسمال انڈسٹری کو فروغ ملے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…