جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

پاکستانیوں تیار ہوجائو! فی کلو گرام چینی کی قیمت 85 روپے سے تجاوز کا خدشہ

datetime 26  جنوری‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی) شوگرملوں نے گنے کی زائد قیمتوں میں دستیابی، 5فیصد سیلز ٹیکس کے نفاذ اور ایکسل لوڈ کے مسائل کوچینی کی قیمتوں میں اضافے کاباعث قرار دیدیاہے۔رواں سیزن میں گنے کی پیداوارمیں کمی اور زائد قیمتوں کے باعث شوگرملوں میں چینی کی فی کلوگرام پیداواری لاگت بڑھ کر77روپے تا78روپے کی سطح تک پہنچ گئی ہے ۔

جس سے خدشہ ہے کہ خوردہ سطح پر فی کلوگرام چینی 85روپے سے تجاوز کرجائے گی۔پاکستان شوگرملز ایسوسی ایشن کے چئیرمین تارا چند نے اس ضمن میں بتایاکہ شوگر ملیں زائد پیداوار لاگت کے باوجودفی کلوگرام چینی کی انڈرکاسٹ قیمت پر71روپے فی کلوگرام ایکس مل کے حساب سے فروخت کررہی ہیں جبکہ تھوک مارکیٹوں یہ چینی 73روپے فی کلوگرام کے حساب سے فروخت کی جارہی ہے اورخوردہ سطح پرفی کلوگرام چینی 78روپے میں فروخت کی جارہی ہے۔تارا چند نے بتایا کہ رواں سال گنے کی پیداوار میں 15فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے، حکومت کی جانب سے گنے کی فی من سرکاری قیمت 192روپے مقرر کرنے کے باوجود شوگرملوں کو کاشتکار اوسطا240روپے فی من پرگنا فراہم کررہے ہیں۔انہوں نے بتایاکہ کاشتکاروں کی جانب سے گنے کی محدوددفروخت کے باعث مقامی شوگرملیں 70فیصدپیداواری استعداد پرچل رہی ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ گزشتہ سال کی نسبت رواں سال حکومت کی جانب سے گنے کی سرکاری قیمت میں5فیصداضافہ، 5فیصد سیلزٹیکس کے نفاذ اور ایکسل لوڈکی وجہ سے شوگر ملوں کی پیداواری لاگت بھی بڑھ گئی ہے جس کے بارے میں شوگرکی ایڈوائزری کونسل کے اجلاس میں بھی تفصیلات شئیرکردی گئی ہیں۔

انہوں نے بتایاکہ پاکستان میں چینی کی سالانہ کھپت5اشاریہ2ملین ٹن ہے، بین الاقوامی مارکیٹ کی نسبت پاکستان میں آج بھی چینی کی قیمت کم ہیں کیونکہ عالمی مارکیٹ میں چینی کی قیمت430ڈالر فی ٹن ہے۔کراچی ریٹیل گروسرز ایسوسی ایشن کے چئیرمین فریدقریشی نے اس ضمن میں بتایاکہ فی کلوگرام چینی کی خوردہ قیمت بڑھ کر 78روپے کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فی الوقت تھوک مارکیٹ سے انہیں فی کلوگرام چینی74روپے میں مل رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…