جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

فردوس عاشق اعوان رنگے ہاتھوں پکڑی گئیں 

datetime 19  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم کی معاون خصوصی نے خون عطیہ کرنے کا اعلان کیا جبکہ فوٹو سیشن کے بعد کسی اور کا بلڈ اپنے نام سے جمع کروا دیا ۔ تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ میں تھلیسیمیا کے مریضوں کیلئے خون عطیہ کرناچاہتی ہوں جبکہ وہ خون عطیہ کرنے کیلئے گئیں انہیں خالی بوتل لگائی گئی جبکہ بعد میں بھری ہوئی بوتل لگا کر فوٹو سیشن کیا گیا ۔

منو بھائی کی دوسری برسی کے موقع پر وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی نے سندس فائونڈیشن گئیں جہاں نے انہوں نےنصیحتیں بھی کیں جبکہ خون دینے کی باری آئی تو سندس فائونڈیشن میں ایک کرسی پر بیٹھیں اور یہ کہتی ہیں کہ مجھے جلدی ہے اور میں نے اسلام آباد کیلئے نکلنا ہے ۔ انہیں خالی بوتل لگائی جبکہ کچھ ہی دیر بعد بھری ہوئی بوتل لگا دی گئی اور سب کو ماموں بنا دیا ،بھری بوتل کیساتھ فوٹو سیشن بھی کیا گیا ۔ خون دینے کا دورانیہ تقریبا بیس منٹ سے بھی اوپر کا تھا جبکہ اصل میں خون کی بوتل عطیہ کرنے کیلئے صرف چار سے پانچ منٹ ہی درکار ہو تے ہیں ۔سندس فاونڈیشن میں اشرف نامی ڈونر کی بوتل فردوس عاشق اعوان کے بازو پر لگائی گئی اور پھر وہ فوٹو سیشن کروانے کے بعد وہاں سےاسلام آباد کیلئے روانہ ہو گئیں ۔

دوسری جانب وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ سندس فاؤنڈیشن نے تھیلیسیمیا کے بچوں کیلئے خون کے عطیات کے حوالے سے آگاہی کمپین کا اجراء کرنا تھا۔اسی ضمن میں میڈیا کوریج ہوئی۔جس کی تصاویر اور فوٹیج کو میڈیا کے بعض حصوں اور سوشل میڈیا پر گمراہ کن انداز سے پیش کیا جانا انتہائی افسوس ناک ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…