فردوس عاشق اعوان رنگے ہاتھوں پکڑی گئیں 

  اتوار‬‮ 19 جنوری‬‮ 2020  |  18:35

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم کی معاون خصوصی نے خون عطیہ کرنے کا اعلان کیا جبکہ فوٹو سیشن کے بعد کسی اور کا بلڈ اپنے نام سے جمع کروا دیا ۔ تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ میں تھلیسیمیا کے مریضوں کیلئے خون عطیہ کرناچاہتی ہوں جبکہ وہ خون عطیہ کرنے کیلئے گئیں انہیں خالی بوتل لگائی گئی جبکہ بعد میں بھری ہوئی بوتل لگا کر فوٹو سیشن کیا گیا ۔منو بھائی کی دوسری برسی کے موقع پر وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی نے سندس فائونڈیشن گئیں جہاں نے انہوں نےنصیحتیں بھی کیں جبکہ


خون دینے کی باری آئی تو سندس فائونڈیشن میں ایک کرسی پر بیٹھیں اور یہ کہتی ہیں کہ مجھے جلدی ہے اور میں نے اسلام آباد کیلئے نکلنا ہے ۔ انہیں خالی بوتل لگائی جبکہ کچھ ہی دیر بعد بھری ہوئی بوتل لگا دی گئی اور سب کو ماموں بنا دیا ،بھری بوتل کیساتھ فوٹو سیشن بھی کیا گیا ۔ خون دینے کا دورانیہ تقریبا بیس منٹ سے بھی اوپر کا تھا جبکہ اصل میں خون کی بوتل عطیہ کرنے کیلئے صرف چار سے پانچ منٹ ہی درکار ہو تے ہیں ۔سندس فاونڈیشن میں اشرف نامی ڈونر کی بوتل فردوس عاشق اعوان کے بازو پر لگائی گئی اور پھر وہ فوٹو سیشن کروانے کے بعد وہاں سےاسلام آباد کیلئے روانہ ہو گئیں ۔ دوسری جانب وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ سندس فاؤنڈیشن نے تھیلیسیمیا کے بچوں کیلئے خون کے عطیات کے حوالے سے آگاہی کمپین کا اجراء کرنا تھا۔اسی ضمن میں میڈیا کوریج ہوئی۔جس کی تصاویر اور فوٹیج کو میڈیا کے بعض حصوں اور سوشل میڈیا پر گمراہ کن انداز سے پیش کیا جانا انتہائی افسوس ناک ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

قاسم پاشا کی گلیوں میں

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎