اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

نئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر کون سے عہدوں پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں؟ جان کر دشمن دنگ رہ جائے گا

datetime 16  جنوری‬‮  2020 |

راولپنڈی (این این آئی) میجر جنرل آصف غفور کی بطور ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) آئی ایس پی آر فرائض کی مدت پوری ہونے کے بعد میجر جنرل بابر افتخار کو پاک فوج کا نیا ترجمان مقرر کر دیا گیا۔آئی ایس پی آر کے نئے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ سے گریجویشن کیا۔بعد ازاں انہوں نے اسلام آباد کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (این ڈی یو) سے گریجویشن کیا۔میجر جنرل بابر افتخار نے رائل کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج اردن سے بھی گریجویشن کیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا عہدہ سنبھالنے سے قبل میجر جنرل بابر افتخار مختلف عہدوں پر

اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا منواچکے ہیں۔میجر جنرل بابر افتخار نے شمالی وزیرستان کی ایک انفنٹری ڈویڑن میں بطور بریگیڈ اسٹاف خدمات انجام دیں۔وہ کمانڈ، اسٹاف اور انسٹرکشن کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر بننے سے قبل میجر جنرل بابر افتخار آرمرڈ ڈویژن کی کمانڈ کررہے تھے۔میجر جنرل بابر افتخار نے آرمر بریگیڈ میں بطور بریگیڈ میجر خدمات انجام دیں۔انہوں نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب میں آرمر بریگیڈ، انفنٹری بریگیڈ کی کمانڈ کی۔میجر جنرل بابر افتخار کور ہیڈکوارٹر میں چیف آف اسٹاف بھی رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…