جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

پارٹی قیادت نے آرمی ایکٹ میں ترامیم سے دستبرداری کا فیصلہ یکطرفہ کیا ،پیپلزپارٹی کے سابق سینیٹرفرحت اللہ بابر کا انکشاف،نیا پنڈوراباکس کھل گیا

datetime 13  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد ( آن لائن )پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے انکشاف کیا ہے کہ آرمی ایکٹ میں پیپلز پارٹی کی جانب سے دی گئیں ترامیم واپس لینے کا فیصلہ یکطرفہ تھا ،پارٹی قیادت نے ہمیں اعتماد میں لیا ہے نہ ہی کور کمیٹی کو آگاہ کیا گیا،یہ ایک درد ناک فیصلہ تھا ۔

ترامیم واپس لینے کا فیصلہ کڑوی گولی نگلنے کے مترادف تھا، ملک میں سیاسی جماعتیں اندرونی سطح پر نہ ہی جمہوری ہیں اور نہ ہی ان میں آزادانہ جمہوری فیصلے کرنے کی صلاحیت ہے اور اس کی حالیہ مثال پارلیمنٹ سے آرمی (ترمیمی) ایکٹ 2020 کے متفقہ طور پر منظور کیا جانا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق انہوں نے انکشاف کیا کہ پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) نے پاکستان آرمی (ترمیمی) ایکٹ بل کو مسترد کردیا اور 4 ترامیم کی تجویز دی تھی تاہم کمیٹی کو اعتماد میں لیے بغیر اسے مسترد کردیا گیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ نہایت دردناک تھا کہ پارٹی قیادت نے ترامیم سے دستبردار ہونے کا ‘یکطرفہ’ فیصلہ کیا،انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو فیصلے جمہوری عمل کے ذریعے کرنا چاہیے۔اندرونی جمہوریت پر کسی جماعت کی جانب سے بات نہ کیے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان 2006 کے میثاق جمہوریت (سی او ڈی) میں سیاسی جماعتوں میں اندرونی اصلاحات کا ذکر نہیں کیا گیا تاہم اس میں پارٹی کے سکیورٹی ایجنسیز سے تعلقات پر نظر ثانی پر بحث کی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کا کردار پارلیمانی پارٹیز سے لے گیا جس کے عوامی رائے کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی میں اندرونی سطح پر پارٹی کے انتخابات میں نمائندگان نہیں تھے اور پارٹی قائدین نے چند ووٹوں سے پارٹی حاصل کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ ‘مجھے معلوم ہے کہ پارٹی کے اندر یہ انتخابات حقیقی جمہوریت پر مبنی نہیں ہوتے’۔انہوں نے پارٹی کے اندر اصلاحات اور ون مین شو کے بجائے جمہوری عمل کی بالادستی لانے کے لیے نئے میثاق جمہوریت کا مطالبہ بھی کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…