جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

پارلیمنٹ اجلاس سے ایک دنپہلے ایسا کیادلچسپ واقعہ پیش آیا جس نے آرمی ایکٹ پراپوزیشن کے ووٹ دینے کی راہ ہموار کردی؟اہم انکشاف کردیا گیا

datetime 12  جنوری‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور(اے این این ) پارلیمنٹ میں آرمی ترمیمی ایکٹ کے منظور ہونے کے چند روز بعد ہی پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنما خرم دستگیر خان نے اشارہ دیا ہے کہ پارٹی کی قیادت پر اس قانون سازی کے لیے دباؤ تھا جبکہ لیگی رہنما رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت ‘ووٹ کو عزت دو’ کے بیانیے سے پیچھے نہیں ہٹی۔

نجی ٹی وی کے مطابق لاہور کے الحمراء ہال میں میں افکار تازہ تھنک فیسٹ میں پارلیمنٹ ٹوڈے نامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ(ن)کے رکن قومی اسمبلی خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ ‘آرمی ایکٹ کے حق میں ووٹ دینے کے لیے اگر کوئی دباؤ تھا تو وہ ہماری قیادت پر تھا ہم جیسے رکن پارلیمان پر نہیں’۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر کہا جارہا ہے کہ آرمی ایکٹ پر اراکین پارلیمان کی کوئی بحث نہیں ہوئی تو یہ سچ نہیں، مسلم لیگ(ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کی معاملے پر تفصیلی بحث ہوئی تھی’۔مسلم لیگ(ن) کے قانون ساز کا کہنا تھا کہ پیش کردہ بل کا مسودہ اپوزیشن کو قانون سازی سے ایک ہفتے قبل دیا گیا تھا تاہم ‘پارلیمنٹ کے اجلاس سے ایک روز قبل ہی کچھ ایسا دلچسپ واقعہ پیش آیا جس نے مجوزہ بل کے لیے حزب اختلاف کے ووٹ دینے کی راہ ہموار کردی’۔سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘میں اس بارے میں تفصیلات نہیں بتا سکتا’۔خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ ‘اس حقیقت کو ماننے کی ضرورت ہے کہ فوج کا سیاست سے تعلق ہے، ہم اسے مانیں یا نہ مانیں یہ حقیقت رہے گی’۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پر آرڈیننس کے استعمال پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو آرڈیننس کا اختیار صرف ہنگامی صورتحال میں استعمال کرنا چاہیے۔

حکومت پارلیمنٹ کو اس وقت اہمیت دے گی جب پچھلے دروازے سے قانون سازی کا اختیار بند ہوجاتا ہے’۔علاوہ ازیں عمران خان کو سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع کرنے کے حوالے سے قانون سازی سے ایک روز قبل کیا ہوا تھا کے حوالے سے سوال کے جواب میں لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ سینئر وفاقی وزیر اپوزیشن کے قانون سازوں کو منانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔انہوں نے دعوی کیا کہ ‘سینئر وفاقی وزیر نے مسلم لیگ(ن)اور پیپلز پارٹی کے پارلیمانی گروپ سے اسلام آباد میں ملاقات کی اور بل کے لیے ووٹ کا مطالبہ کیا اور وہ اس وقت ہی گئے جب ہم نے انہیں زبان دے دی۔

علاوہ ازیں مسلم لیگ(ن) کے آرمی ایکٹ قانون سازی کے مرحلے میں موقف کو واضح کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی جماعت ووٹ کو عزت دو کے بیانیے سے پیچھے نہیں ہٹی۔ان کا کہنا تھا کہ ‘نواز شریف اور ان کی جماعت اپنے بیانیے سے پیچھے نہیں ہٹی ہے اور ہم عوام کو بالاتر سمجھتے ہیں’۔رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ‘مسلم لیگ (ن) نے آرمی چیف کی سروس کے توسیع کے حق میں ووٹ دیا کیونکہ ہم اس اہم مسئلے پر سیاست نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ تحریک انصاف کی نا اہل حکومت نے اس معاملے کو خراب کیا تھا، اس قانون سازی کے ذریعے وزیر اعظم کو تینوں سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع دینے کا اختیار حاصل ہوا ہے’۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…