اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

بھارتی لوک سبھا میں امتیازی ومتعصبانہ قانون سازی ، پاکستان کی جانب سے شدید ردعمل

datetime 10  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(این این آئی) پاکستان نے کہا ہے کہ پاکستان اور جنوبی ایشیاء کے دیگر ممالک کے غیرمسلم باشندوں اور تارکین وطن کو بھارتی شہریت دینے سے متعلق بھارتی لوک سبھا میں حالیہ قانون سازی جھوٹ اور دھوکے پر مبنی ہے ۔

یہ اقدام انسانی حقوق کے عالمی منشور اور ہر طرح کے امتیازات، مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر ہر قسم کے تعصبات کے خاتمے کے لئے بین الاقوامی معاہدات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ لوک سبھا کی قانون سازی پاکستان اور بھارت کے درمیان مختلف دوطرفہ معاہدات بالخصوص دونوں ممالک کی اقلیتوں کے حقوق اور سلامتی سے متعلق معاہدے کی بھی صریحا خلاف ورزی ہے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہاگیاکہ یہ قانون سازی ’ہندوراشٹرا‘ کے تصور کو عملی شکل دینے کی طرف ایک اور بڑا قدم ہے۔ اس تصور کی تعبیر کے لئے دائیں بازو کے ہندو رہنما کئی دہائیوں سے سرگرم عمل ہیں۔ یہ ’ہندتوا‘ کی انتہاء پسندانہ سوچ اور خطے میں تسلط پسندانہ خیالات کا زہریلا میلاپ ہے۔ یہ مذہب کی بنیاد پر ہمسایہ ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا واضح اظہار ہے جسے ہم قطعی طورپر مسترد کرتے ہیں۔ بھارت کی جانب سے خود کو ہمسایہ ممالک میں ستائی ہوئی اقلیتوں کا گھر ظاہر کرنے کے دعوے بھی انتہائی قابل مذمت ہیں۔ گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام، سمجھوتہ ایکسپریس کے سانحے، گائے کے محافظ جتھوں کے ہاتھوں لاتعداد لوگوں کاقتل، گھرواپسی اور ’جہاد سے پیار‘ کے نام سے شروع کی گئیں بدنام زمانہ سکیموں کے علاوہ مسیحیوں، سکھوں، جین اوردلت جیسے نچلی ذات کے ہندوں پر بہیمانہ تشدد انتہاپسند ہندو نظریات رکھنے والے حکمران طبقے کا اعزاز اورپہچان ہے۔

اسّی لاکھ بے گناہ اور نہتے کشمیریوں پر ظلم وستم جاری ہیں، نو لاکھ سے زائد بھارتی قابض افواج ان پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہی ہیں، یہ سب حقائق انتہاء پسند بھارتی ذہن کی پوری طرح تشریح اور تعارف پیش کرتے ہیں۔ ترجمان نے کہاکہ بھارتی قانون سازی نے ایک بار پھر بھارتی ’جمہوریت‘ اور ’سیکولرازم‘ کے کھوکھلے دعووں کو بے نقاب کردیا ہے۔ اکثریت کے ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہوئے آر ایس ایس اور بی جے پی کی دیگر عقائد کے لوگوں کو نکال باہر پھینکنے والی سوچ پوری دنیا کے سامنے آچکی ہے اور مسلمانوں سے شدید نفرت کس درجے پر ہے، اس کا بھی واضح اظہار ہوچکا ہے۔ ہم اس امتیازی، جارحانہ اورجابرانہ قانون سازی کی مذمت کرتے ہیں جو تمام متعلقہ عالمی ضابطوں اور اقدار کی صریحا خلاف ورزی ہے اور ہمسایہ ممالک میں بھارتی مداخلت اور بدنیتی کی کھلی مثال ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…