بدھ‬‮ ، 11 مارچ‬‮ 2026 

آرمی چیف سے فضل الرحمن کی ملاقات، آپ اور نہ ہی میں عمران خان کو مائنس کر سکتے ہیں، اگر احتجاج پر اصرار کیا تو ۔۔جنرل باجوہ نے فضل الرحمن کوخبر دارکردیا، سینئر اینکر کے سنسنی خیز انکشافات

datetime 24  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے جے یو آئی (ف) کے رہنما مولانا فضل الرحمن نے ملاقات کی اور آزادی مارچ کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ اس بات کا انکشاف گزشتہ روز نجی ٹی وی پروگرام میں اینکر کی جانب سے کیا گیا ۔

جیونیوز کے مطابق مذکورہ اینکر ان صحافیوں میں شامل تھے جنہوں نے دیگر صحافیوں کے ہمراہ وزیراعظم سے ملاقات کی تھی۔ مذکورہ اینکر کے مطابق، مولانا فضل الرحمان اور آرمی چیف کی ملاقات چند روز قبل ہوئی تھی جب انہوں نے آزادی مارچ کا اعلان کیا تھا۔ پروگرام کے شریک میزبان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف نے مولانا کو یقین دہانی کرائی کہ وہ جمہوریت اور آئین کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہم وہی کر رہے ہیں جو آئین ہم سے مطالبہ کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو آرمی چیف نے یاد دہانی کرائی کہ وہ ایک ذمہ دار سیاسی رہنما ہیں اور انہیں خطے کی صورتحال کا اندازہ ہونا چاہئے کہ یہ کتنی پریشان کن ہے۔کشمیر کے حالات کی وجہ سے بارڈر پر صورتحال کشیدہ ہے۔ آرمی چیف نے ایران سعودی عرب تعلقات کا بھی حوالہ دیا اور مولانا سے کہا کہ یہ دھرنے کیلئے درست وقت نہیں کیونکہ ملکی معیشت کو دن رات محنت سے درست سمت کی طرف لے جایا گیا ہے۔ پروگرام کے شریک میزبان کے مطابق، آرمی چیف نے واضح کیا کہ وہ اس وقت کسی بھی طرح کے عدم استحکام کی اجازت نہیں دیں گے۔ آرمی چیف نے مائنس عمران کے امکانات کو بھی مسترد کر دیا کیونکہ وہی آئینی وزیراعظم ہیں۔انہوں نے مولانا کو بتایا کہ آپ اور نہ ہی میں انہیں مائنس کر سکتے ہیں۔

شریک میزبان کے مطابق، آرمی چیف نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر مولانا نے احتجاج پر اصرار کیا تو کچھ اور لوگ مائنس ہو سکتے ہیں۔استحکام کیلئے اگر جانی نقصان ہوا اور آئین اس کی اجازت بھی دیتا ہے تو ایسے کسی بھی اقدام سے نہیں ہچکچائیں گے۔آرمی چیف کے ساتھ اس ملاقات کے حوالے سے موقف معلوم کرنے کیلئے مولانا دستیاب نہیں تھے۔پروگرام کے شریک میزبان نے مزید دعویٰ کیا کہ مولانا نے ایک روز قبل مارچ کیلئے آشیرباد کے حصول کیلئےکسی شخص کو فون کال کی تھی اور ساتھ ہی یہ یقین دہانی کرائی کہ وہ دھرنا نہیں دیں گے اور کوئی عوامی اجتماع نہیں ہوگا، لیکن انہیں صرف مارچ کیلئے اجازت دی جائے۔ شریک میزبان کا کہنا تھا کہ مولانا کو ایسا کرنے سے سختی سے منع کر دیا گیا۔شریک میزبان نے اس شخص کا نام نہیں بتایا جسے مولانا نے فون کال کی تھی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ مولانا کے حوصلے پست ہو رہے ہیں کیونکہ حکومت نے گزشتہ چار سے پانچ روز کے دوران اپنے آپشنز دانشمندی سے استعمال کیے ہیں۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…