پیر‬‮ ، 09 فروری‬‮ 2026 

آرمی چیف سے فضل الرحمن کی ملاقات، آپ اور نہ ہی میں عمران خان کو مائنس کر سکتے ہیں، اگر احتجاج پر اصرار کیا تو ۔۔جنرل باجوہ نے فضل الرحمن کوخبر دارکردیا، سینئر اینکر کے سنسنی خیز انکشافات

datetime 24  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے جے یو آئی (ف) کے رہنما مولانا فضل الرحمن نے ملاقات کی اور آزادی مارچ کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ اس بات کا انکشاف گزشتہ روز نجی ٹی وی پروگرام میں اینکر کی جانب سے کیا گیا ۔

جیونیوز کے مطابق مذکورہ اینکر ان صحافیوں میں شامل تھے جنہوں نے دیگر صحافیوں کے ہمراہ وزیراعظم سے ملاقات کی تھی۔ مذکورہ اینکر کے مطابق، مولانا فضل الرحمان اور آرمی چیف کی ملاقات چند روز قبل ہوئی تھی جب انہوں نے آزادی مارچ کا اعلان کیا تھا۔ پروگرام کے شریک میزبان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف نے مولانا کو یقین دہانی کرائی کہ وہ جمہوریت اور آئین کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہم وہی کر رہے ہیں جو آئین ہم سے مطالبہ کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو آرمی چیف نے یاد دہانی کرائی کہ وہ ایک ذمہ دار سیاسی رہنما ہیں اور انہیں خطے کی صورتحال کا اندازہ ہونا چاہئے کہ یہ کتنی پریشان کن ہے۔کشمیر کے حالات کی وجہ سے بارڈر پر صورتحال کشیدہ ہے۔ آرمی چیف نے ایران سعودی عرب تعلقات کا بھی حوالہ دیا اور مولانا سے کہا کہ یہ دھرنے کیلئے درست وقت نہیں کیونکہ ملکی معیشت کو دن رات محنت سے درست سمت کی طرف لے جایا گیا ہے۔ پروگرام کے شریک میزبان کے مطابق، آرمی چیف نے واضح کیا کہ وہ اس وقت کسی بھی طرح کے عدم استحکام کی اجازت نہیں دیں گے۔ آرمی چیف نے مائنس عمران کے امکانات کو بھی مسترد کر دیا کیونکہ وہی آئینی وزیراعظم ہیں۔انہوں نے مولانا کو بتایا کہ آپ اور نہ ہی میں انہیں مائنس کر سکتے ہیں۔

شریک میزبان کے مطابق، آرمی چیف نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر مولانا نے احتجاج پر اصرار کیا تو کچھ اور لوگ مائنس ہو سکتے ہیں۔استحکام کیلئے اگر جانی نقصان ہوا اور آئین اس کی اجازت بھی دیتا ہے تو ایسے کسی بھی اقدام سے نہیں ہچکچائیں گے۔آرمی چیف کے ساتھ اس ملاقات کے حوالے سے موقف معلوم کرنے کیلئے مولانا دستیاب نہیں تھے۔پروگرام کے شریک میزبان نے مزید دعویٰ کیا کہ مولانا نے ایک روز قبل مارچ کیلئے آشیرباد کے حصول کیلئےکسی شخص کو فون کال کی تھی اور ساتھ ہی یہ یقین دہانی کرائی کہ وہ دھرنا نہیں دیں گے اور کوئی عوامی اجتماع نہیں ہوگا، لیکن انہیں صرف مارچ کیلئے اجازت دی جائے۔ شریک میزبان کا کہنا تھا کہ مولانا کو ایسا کرنے سے سختی سے منع کر دیا گیا۔شریک میزبان نے اس شخص کا نام نہیں بتایا جسے مولانا نے فون کال کی تھی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ مولانا کے حوصلے پست ہو رہے ہیں کیونکہ حکومت نے گزشتہ چار سے پانچ روز کے دوران اپنے آپشنز دانشمندی سے استعمال کیے ہیں۔



کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…