جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

اسلام آباد مارچ، نواز شریف کی شہباز شریف کو کیا اہم ذمہ دار ی سونپ دی ؟ پی پی اور ن لیگ دھرنے کی ناکامی سے ڈرنے لگی

datetime 4  اکتوبر‬‮  2019 |

لاہور(آن لائن) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے 27 اکتوبر کو اسلام آباد لاک ڈاؤن (آزادی مارچ) کے ‘یکطرفہ’ اعلان کے درمیان ہی سابق وزیراعظم نواز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کریں تاکہ ‘سلیکٹڈ’ پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کیلیے مشترکہ جدوجہد کا آغاز کیا جاسکے۔ رپورٹ کے مطابق

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف سے ملاقات کی اور انہیں مولانا فضل الرحمٰن اور پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقاتوں اور مسلم لیگ (ن) کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین کی آزادی مارچ پر رائے سے آگاہ کیا۔ اس ملاقات کے بعد مسلم لیگ (ن) کے ایک عہدیدار نیمیڈیا کو بتایا کہ ‘میاں نواز شریف اسلام آباد لاک ڈاؤن سے متعلق جے یو آئی ف، مسلم لیگ (ن)، پی پی پی اور تمام چھوٹی جماعتوں میں اتفاق رائے چاہتے ہیں، انہوں نے شہباز شریف کو کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے کریں، ساتھ ہی انہوں نے اپنا پیغام مولانا فضل الرحمٰن کو پہنچانے کو بھی کہا کہ (جے یو آئی ف) کی جانب سے اکیلے پرواز ہوسکتا ہے مطلوبہ نتائج حاصل نہ کرسکے’۔انہوں نے کہا کہ “اگرچہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کو مارچ کے طریقہ کار پر کچھ تحفظات ہیں لیکن میاں نواز شریف کافی پرامید ہیں کہ 3 مرکزی اپوزیشن جماعتیں ‘مشترکہ بنیادوں’ پر اکٹھا ہوئیں اور اس سلیکٹڈ حکومت سے چھٹکارے کے لیے مشترکہ جدوجہد کا آغاز کیا”دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کی بات چیت میں موجود ذرائع نے بتایا کہ ‘لاک ڈاؤن پر تینوں جماعتوں کے درمیان اختلاف رائے کے مرکزی نکات یہ ہیں کہ اسلام آباد میں یہ دھرنا کتنا طویل ہوگا، جمع ہونے والے سیکڑوں اور ہزاروں لوگوں لوگوں کیسے کنٹرول کیا جائے گا اور اس سب کے باوجود اگر

وزیراعظم عمران خان استعفیٰ نہیں دیتے تھے مظاہرین کے پاس کیا آپشن ہوگا’۔ذرائع نے بتایا کہ ‘چونکہ اپوزیشن کے پاس امپائر کی حمایت نہیں تو وزیراعظم عمران خان دھرنے والوں کے مطالبات ماننے پر کیسے مجبور ہوں گے جبکہ (دھرنے کے تناظر میں) دارالحکومت میں افراتفری کی صورتحال دن کے اختتام پر دوسرے کھلاڑی کو فائدہ پہنچا سکتی ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر تمام اپوزیشن جاعتیں عمران خان کو گھر بھیجنے پر متفق ہیں

لیکن مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کو اصل ڈر دھرنے کی ناکامی کا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ‘ہم نے مولانا فضل الرحمٰن کو کہا تھا کہ ہمیں مسلط وزیراعظم کو ہٹانے کے لیے ایک مضبوط پلان کی ضرورت ہے بصورت دیگر ناکام کوششیں انہیں غالب ہونے کے لیے مزید تقویت دے سکتی ہیں’۔واضح رہے کہ اس سے قبل مسلم لیگ (ن) نے جے یو آئی ف کو مارچ کو ایک ماہ ملتوی کرنے کا کہا تھا تاکہ مرکزی اپوزیشن جماعتیں حکومت کو ہٹانے کے لیے اپنے کارکنان کو متحرک کرسکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…