جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

جس طرح آپ نے نام نہاد اسلامی انتہا پسندی اور ناموس رسالتؐ پر آواز اٹھائی، اربوں مسلمانوں کے دلوں کو چھو لیا، ساؤتھ افریقی عالم دین کا عمران خان کو خراج تحسین، بڑی پیشکش کر دی

datetime 3  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) جنوبی افریقہ کے عالم دین مولانا احمد آکو نے وزیراعظم پاکستان کو شاندار خراج تحسین پیش کرتے ہوئے جنوبی افریقہ آنے کی دعوت بھی دے دی، مولانا احمد آکو نے کہا کہ آپ نے اربوں مسلمانوں کے دلوں کو چھو لیا ہے، جس طرح آپ نے نام نہاد اسلامی انتہا پسندی اور ناموسِ رسالتؐ پر آواز اٹھائی، آپ نے ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے انتہائی دلیرانہ موقف اختیار کیا، آپ نے دل سے امت کی لڑائی لڑی،

مولانا احمد آکو نے کہا کہ خاص طور پر میرا پسندیدہ حصہ وہ تھا جب آپ نے حضور نبی اکرمؐ سے محبت کی بات کی، آپ نے کہا کہ محمدؐ مسلمانوں کے دلوں میں رہتے ہیں، یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب میں کہا تھا کہ نائن الیون کے بعد اسلام فوبیا بڑھا اس حوالے سے عالمی برادری کو سمجھنے کی ضرورت ہے،، اسلامی دہشت گردی نام کی کوئی چیز نہیں، صرف ایک اسلام ہے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے، دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، آزادی اظہار کو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تضحیک اور توہین کیلئے استعمال نہ کیا جائے، عمران خان نے کہاتھا کہ مسلم لیڈرز نے ماضی میں اسلامو فوبیا کے بارے میں بات نہیں کی،ماضی میں پاکستان کی حکومت نے روشن خیال اسلام کی اصطلاح استعمال کی۔انہوں نے کہا کہ مغرب میں بہت وقت گزارا جانتا ہوں وہ کیسے سوچتے ہیں؟مغربی لباس پہننے اور انگلش بولنے والے مسلمانوں کو معتدل سمجھا جاتا ہے،مغرب میں مذہب کو بہت مختلف نظر سے دیکھا جاتا ہے،مغرب میں سوچا گیا کہ اسلام آزادی اظہار کی اجازت نہیں دیتا، مغرب میں اسلام کے بارے میں عجیب چیزیں سنیں، کہاں گیا کہ اسلام خواتین کی آزادی کے خلاف ہے، مغرب میں مخصوص طبقات جان بوجھ کر اسلام کے خلاف پراپیگنڈہ کرتے ہیں،حضور اکرم ﷺ کی زندگی قرآن پاک کے مطابق گزری،حضور اکرم ﷺکی زندگی مسلمانوں کے لیے مثال ہے، ریاست مدینہ دنیا کی پہلی فلاحی ریاست تھی،

اسلام میں کہا گیا کہ تمام افراد برابر ہیں، حضور اکرمﷺ نے کہا کہ سب سے اچھا کام غلام کو آزاد کرنا ہے، اس وقت معیشت کا انحصار غلامی پر تھا، اس لیے غلاموں سے اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا گیا، ایک تاثر پایا جاتا ہے کہ اسلام اقلیتوں کے خلاف ہے،اسلام بتاتا ہے کہ ہر شخص قانون کی نظر میں برابر ہے چاہے اس کا مذہب کوئی بھی ہو، جب مسلم ریاست اقلیتوں کیخلاف جاتی ہے تو وہ اسلام کے خلاف جاتی ہے، پیغمبر محمدﷺ مسلمانوں کے دل میں رہتے ہیں، حضوراکرمﷺ کی توہین ہوتی ہے تو مسلمانوں کا ردعمل آتا ہے،دل کا درد جسم کے درد سے کہیں زیادہ ہوتا ہے، ہولوکاسٹ یہودیوں کے لیے ایک حساس مسئلہ ہے،جب اسلام کی توہین پرمسلمانوں کاردعمل سامنے آتا ہے تو ہمیں انتہا پسند کہہ دیا جاتا ہے،اقوام عالم کو اب اس مسئلے کا حل نکالنا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…