ملیحہ لودھی کو عہدے سے ہٹایا گیا یا ریٹائر ہوئیں؟ میڈیا پر چلنے والی سٹوریوں کی حقیقت بالآخر سامنے آگئی،قصہ ہی ختم

  جمعرات‬‮ 3 اکتوبر‬‮ 2019  |  14:36

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے ملیحہ لودھی سے متعلق میڈیا پر چلنے والی خبروں پر وضاحتی بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں عہدے سے ہٹایا نہیں گیا بلکہ ان کی مدت ملازمت پوری ہو چکی تھی۔ دفتر خارجہ میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ ملیحہ لودھی کی اقوام متحدہ میں بطور پاکستانی مندوب مدت ملازمت مکمل ہوچکی تھی انہیں عہدے سے ہٹایا نہیں گیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز یہ خبر آئی تھی کہ ملیحہ لودھی کی جانب سےحکومت پاکستان کو اقوام متحدہ کی طرف سے حافظ سعید سے متعلق لکھا گیا خط


بھارتی لابی کو لیک کیا گیا۔ خط لیک کرنے کا مقصد وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کا زور توڑنا اور اسے ناکام بنانا تھا ۔ وزیر اعظم عمران خان نے دورہ امریکہ کی زبردست کامیابی کے بعد وطن پہنچتے ہی اقوام متحدہ میں کام کرنے والی مندوب ملیحہ لودھی کو ہٹایا۔وزیر اعظم کے اس خوفناک رد عمل کے پیچھے یقیناً کوئی ٹھوس وجہ تھی اور یہ وجہ اقوام متحدہ کی طرف سے حکومت پاکستان کی درخواست پر حافظ سعید ،حاجی محمد اشرف اور ظفر اقبال کو روز مرہ اخراجات کیلئے انکے اکاؤنٹس سے کچھ فنڈز کی ریلیزبابت دیا گیا اجازت نامہ تھا۔ اقوام متحدہ نے یہ لیٹر 15اگست2019کوجاری کیا جسے ملیحہ لودھی اور انکے سیکرٹری عثمان ٹیپو نے دانستہ دبا لیا اور انتظار کیاکہ جب وزیر اعظم جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے نیویارک پہنچیں گے تو اس خط کو منظر عام پر لایا جائے ۔مذکورہ لیٹر25ستمبر کو نیویارک میں صحافت سے وابستہ لوگوں کے واٹس ایپس پر نمودار ہونا شروع ہوا اور ایک موقع پر جب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی میڈیا سے گفتگو کررہے تھے تو عین اس وقت بھارت کے کچھ صحافیوں نے بار بار اس لیٹر کا حوالہ دیکر سوال کیا کہ پاکستان کشمیر کا مقدمہ لڑنے کی بجائے پاکستان میں پابندی کا شکار لوگوں کے اکاؤنٹس بحالی کیلئے درخواستیں لیکر آیا ہے۔ حالانکہ اس خط سے متعلق اقوام متحدہ بھی واضح کرچکی ہے کہ ان مختصر فنڈز کی ریلیز قانون کے مطابق ہے ۔ لیکن ملیحہ لودھی اور بھارتی لابی کا یہ گٹھ جوڑ نیویارک میں مقیم پاکستانی صحافیوں نے بے نقاب کیا اور اصل صورتحال وزیر اعظم تک پہنچائی گئی مزید برآں وزیر اعظم کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ ملیحہ لودھی نے وزیر اعظم کی مشیر برائے اطلاعات و نشریات محترمہ فردوس عاشق اعوان کو ایک خط لکھ کر زور دیا کہ اقوام متحدہ میں گزشتہ10ماہ سے پریس منسٹر کا عہدہ خالی پڑا ہوا ہے۔ اس لئے اس عہدے پر سابق پریس منسٹر ریٹائرڈ سعید انور کی تعیناتی کی جائے۔ ملیحہ لودھی کی اس خواہش کے پیچھے کا کار فرما عوامل ڈھونڈے گئے تووہ بھی ناقابل بیان نکلے جس کے بعد موصوٖٖفہ کو رخصت کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔واضح رہے کہ ملیحہ لودھی کے بیٹے فیصل شہروانی کے بارے میں بھی سوشل میڈیا پر خبریں آئی تھیں کہ انکی شادی ایک ایسی بھارتی خاتون سے ہوئی ہے جسکے خاندان کے بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی سے قریبی تعلقات ہیں۔ملیحہ لودھی یاانکے خاندان کی طرف سے اسکی کبھی بھی تردید سامنے نہیں آئی۔


موضوعات: