منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سوشل میڈیاپر کشمیریوں کے حق میں آواز اُٹھانے والوں کیخلاف بھارتی اقدامات،ڈی جی آئی ایس پی آرمیجر جنرل آصف غفورنے عوام کو اہم پیغام دیدیا

datetime 18  اگست‬‮  2019 |

راولپنڈی (آن لائن) بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اعلان کے بعد سے کشمیریوں کی جانب سے آزادی کی پکار میں اور تیزی آ گئی ہے۔ اس وقت تحریک کشمیر ایک فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکی ہے۔

نہتے اور مظلوم کشمیریوں کی آواز دبانے کے لیے جہاں ایک طرف کشمیر میں مزید ہزاروں فوجی بھیج دیئے گئے ہیں تاکہ کشمیریوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنا کر انہیں پوری طرح سے کچل کر رکھ دیا جائے۔مگر اس معاملے میں خون کی پیاسی بھارتی فوج پوری طرح ناکام نظر آ رہی ہے۔ بھارتی سرکار کو اس وقت سوشل میڈیا کے محاذ پر بھی کڑی تنقید کا سامنا ہے۔ د?نیا بھر سے سوشل میڈیاصارفین کشمیر میں ہونے والی ظلم و زیادتی کو دبانے کے لیے آوازیں اٹھا رہے ہیں۔اسی سلسلے میں مودی سرکار نے ٹویٹر انتظامیہ سے بھارتی مظالم کے خلاف آواز اٹھانے پر آٹھ ٹویٹر اکاؤنٹس بند کرنے کی درخواست کی ہے جس کے بعد کئی ٹویٹر اکاؤنٹس بند بھی کر دیے گئے ہیں اب ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے ان اکاؤنٹس کے حوالے سے ٹویٹر اور فیس بک انتظامیہ سے معاملہ اٹھایا ہے۔انہوں نے اپنے ٹویٹر پیغام میں بتایا ہے کہ ”پاکستانی حکام نے کشمیر کی حمایت میں پوسٹ کرنے کے لئے پاکستانی اکاؤنٹس معطل کرنے کے خلاف ٹویٹر اور فیس بک پر معاملہ اٹھایا ہے۔ ان کے علاقائی ہیڈ کوارٹرز میں ہندوستانی عملہ اس کی وجہ ہے۔ براہ کرم جواب میں معطل اکاؤنٹس پوسٹ کریں جو آپ جانتے ہیں“۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر ویب سائٹس کی انتظامیہ سے بات کریں گے۔ خیال رہے کہ بھارت کے کہنے پر کئی پاکستانیوں کے تویٹر اکاؤنٹس بند کر دیے گئے ہیں جن میں معروف صحافی عمران خان کا ٹویٹر اکاؤنٹ بھی شامل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…