جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

پی ٹی آئی دھرنا کیس: تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت کو ایسا ریلیف مل گیا جس کی کسی کو بھی توقع نہ تھی،اپوزیشن ہاتھ ملتی رہ گئی

datetime 31  جولائی  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی اعلیٰ قیادت، بشمول ڈاکٹر عارف علوی، کو 2014 کے دھرنے کے دوران ان کے خلاف درج کیسز میں پیش ہونے سے استثنیٰ دے دی۔

صدر مملکت عارف علوی کے علاوہ پی ٹی آئی کے وکیل محمد علی بخاری نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر تعلیم شفقت محمود، خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی، تحریک انصاف پنجاب کے صدر اعجاز چوہدری، جہانگیر خان ترین، اسد عمر اور دیگر کے لیے استثنیٰ کی درخواست کی تھی۔خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے پہلے ہی ان کیسز میں مستقل استثنیٰ طلب کر رکھی ہے۔ڈاکٹر عارف علوی نے جب صدر مملکت کا عہدہ سنبھالا تو ان کے وکیل نے ان سے صدارتی استثنیٰ حاصل کرنے کی تجویز دی تھی۔آئین کے آرٹیکل 248 (2) کے مطابق ‘صدر مملکت یا گورنر کے عہدے پر ہوتے ہوئے ان اشخاص کے خلاف کسی بھی عدالت میں مجرمانہ کارروائی عمل میں نہیں لائی جاسکتی’۔تاہم صدر عارف علوی نے ٹرائل کا سامنا کرنے اور تمام سماعت میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔انسداد دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جاوید عباس نے درخواستوں کو منظور کرتے ہوئے سماعت 10 ستمبر تک کے لیے ملتوی کردی تھی۔خیال رہے کہ پولیس نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، ڈاکٹر عارف علوی، اسد عمر، شاہ محمود قریشی، شفقت محمود اور راجہ خرم کے خلاف دھرنے کے دوران تشدد پر ورغلانے پر انسداد دہشت گردی کی دفعات لگائی تھیں۔ استغاثہ کے مطابق 3 افراد کا قتل ہوا تھا، 26 زخمی تھے جبکہ 60 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔استغاثہ نے 65 تصاویر، اسٹکس اور کٹر وغیرہ بھی عدالت میں بطور ثبوت جمع کرائے تھے۔استغاثہ کا کہنا ہے کہ دھرنا پر امن نہیں تھا اور ملزمان نے 3 سال بعد ضمانت لی تھی۔واضح رہے کہ 31 اگست 2014 کو پی ٹی آئی اور پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے کارکنان نے پارلیمنٹ ہاؤس اور وزیر اعظم ہاؤس کی طرف مارچ کیا تھا جس کے دوران ان کی شاہراہ دستور پر تعینات پولیس سے جھڑپ بھی ہوئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…