جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

افغان طالبان کے امیر ملا منصورپاکستان کے کس شہر میں رئیل سٹیٹ کا کاروبار کرتے تھے؟تہلکہ خیز انکشافات

datetime 27  جولائی  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) تحقیقاتی اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان طالبان کے امیر ملا منصور کراچی میں رئیل سٹیٹ کا کاروبار کرتے تھے، ان کے نام پر متعدد پلاٹس، فلیٹس اور رہائشی منصوبے ہیں جنھیں سیل کردیا گیا ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ایف آئی اے کے کاؤنٹر ٹیررازم ونگ نے ملا منصور پر جعل سازی کا مقدمہ بھی درج کیا ہے۔

جس میں بتایا گیا ہے کہ ملا منصور کے حوالے سے ایف آئی اے کراچی یونٹ کے سامنے یہ حقیقت آئی کہ محمد ولی ولد شاہ محمد اور گل محمد ولد سعید امیر علی کے شناختی کارڈوں میں جو کوائف دیئے گئے وہ وہی تھے جو ملا منصور کے شناختی کارڈ میں موجود تھے۔ایف آئی اے کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر 1267 کے باوجود، جس میں اسامہ بن لادن اور ان کے ساتھیوں اور طالبان کو دہشت گرد قرار دیا گیا تھا، ملا منصور کراچی میں جائیدار کی خرید و فروخت کا کاروبار کرتے رہے اور چھ غیر منقولہ املاک کے مالک تھے۔ایف آئی اے کے مطابق ان املاک میں پلاٹ، فلیٹس اور رہائشی منصوبے شامل ہیں جو گلشن معمار کے ڈی اے سکیم نمبر 45، شہید ملت روڈ پر واقع ہیں اور جنھیں سیل کر دیا گیا۔ملا منصور اپنے فرنٹ مین عمار ولد محمد یاسر کے ذریعے یہ کاروبار کرتے تھے۔ایف آئی اے کے مطابق ملا منصور کے مختلف بینکوں میں کھاتے بھی موجود تھے ان کھاتوں کے لیے انھوں نے اقرا سٹیٹ ایجنسی کا نام استعمال کیا تھا لیکن بعد کی تحقیقات کے مطابق ان کا اس ایجنسی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ایف آئی اے کی ایف آئی آر کے مطابق ملا منصور نے محمد ولی اور گل محمد کے نام سے جعلی شناختی کارڈ حاصل کیے تھے اور جعلی کوائف پر مالی سرگرمیوں میں ملوث رہے۔اس جرم میں انسداد دہشت گردی ایکٹ اور پاکستان پینل کوڈ کی دفعات کے تحت ملا منصور عرف محمد ولی عرف گل محمد اور ان کے فرنٹ مین عمار کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے جبکہ بینک حکام اور نادرا حکام کے کردار کا بھی تعین کیا جائے گا۔یاد رہے ملا منصور 2016 میں ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…