ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

 ہم نے پاکستان کو ایٹمی صلاحیت دے کر بیرونی خطرات سے محفوظ کر دیا،اب کیا کرنا ہوگا؟ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے انتباہ کردیا

datetime 26  جولائی  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور (آن لائن) معروف ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیرخان نے کہا ہے کہ ہم نے پاکستان کو ایٹمی صلاحیت دے کر بیرونی خطرات سے محفوظ کر دیا ہے اور اب ہمیں اندرونی طور پر ملک کو بیماریوں کے پھیلتے ہوئے تشویشناک خطرات سے تحفظ فراہم کرناہو گا جس کے لیے حکومت،رفاہی وسماجی اداروں اور پرائیوٹ سیکٹر کو مل کر کام کرنا ہو گا۔ان خیلات کو اظہار انہوں نے چغتائی لیب کے مرکزی دفتر کے دورہ کے دوران لیب کے ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف سے خطاب کرتے ہوئے کیا

انہوں نے کہا کہ شعبہ صحت سے متعلق اداروں اور تنظیموں کو اس مقصد کے حصول کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا تاکہ وطنِ عزیز کو ایک صحت مند قوم اور صحت مند معاشرہ فراہم ہوسکے جو کسی بھی ملک کی ترقی کے لئے ناگزیرہوتا ہے انہوں نے کہا ہم نے ملک میں صحت کی سہولیات کے فقدان کے پیشِ نظر  ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال قائم کیا جو 2015ء سے اب تک تقریباً 4لاکھ نادار اور غریب مریضوں کو علاج معالجہ کی مفت سہولیات فراہم کر چکا ہے اور تاحال یہ سلسلہ جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ  صحت کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے ہم ہسپتال کے 300بستروں پر مشتمل ایک سٹیٹ آف دی آرٹ نیا ٹاور تعمیر کر رہے ہیں جس پر تیزی سے کام ہو رہا ہے اور اس کا افتتاح ہم اکتوبر 2020ء تک کر دیں گے جس میں ہر شعبہ کے ماہر ڈاکٹرز عوام کو علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کرنا شروع کر دیں گے۔قبل ازیں چغتائی لیب کے مینجنگ ڈائریکٹر عمر چغتائی نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں  ڈاکٹر عبدالقدیرخان کی ملک کے لئے کی گئی دفاعی اور رفاہی خدمات پر انہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ ڈاکٹر صاحب کی خدمات بے مثال ہیں جسے رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا انہوں نے مزید کہا کہ ہم چغتائی لیب کے ذریعے فلاحِ انسانیت کاکام کر رہے ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ان کے گھروں تک لیب کی سہولیات فراہم کرسکیں۔ازاں بعد  ڈاکٹر عبدالقدیرخان نے چغتائی لیب کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا اور لیب کی جدید ترین مشینری کے معیا ر کو سراہا۔تقریب میں دوسروں کے علاوہ پروفیسر ڈاکٹر اے ایس چغتائی ان کی اہلیہ،ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر شوکت وِرک،مسسزعائشہ نذیر،پروفیسر ڈاکٹر ناگی اور صحت کے  سے متعلق ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…