امریکہ خطے میں پولیس مین نہیں بننا چاہتا،پاکستان کے ساتھ ملکر کیا کریں گے؟امریکی صدر ٹرمپ نے عمران خان کے ساتھ ملاقات کے بعد بڑا اعلان کردیا

  پیر‬‮ 22 جولائی‬‮ 2019  |  22:34

واشنگٹن (این این آئی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان افغانستان میں ہماری بڑی مدد کررہا ہے،پاک بھارت کشیدہ تعلقات میں بہتری میں کوئی تعاون کر سکتا ہوں تو ثالثی کا کر دار ادا کرونگا، امریکی خطے میں پولیس مین نہیں بننا چاہتا،امریکا پاکستان کے ساتھ مل کر افغان جنگ سے باہر نکلنے کی راہ تلاش کرہا ہے،امریکا، پاکستان میں سرمایہ کاری کا خواہاں ہے اور تجارت کے وسیع مواقع ہیں،ایران کے ساتھ مذاکرات شروع کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے جبکہ افغانستان کا واحد حل طالبان کے ساتھ امن معاہدہ ہے، امید ہے کہ آنے


والے دنوں میں طالبان کو مذاکرات کیلئے تیار کر پائیں گے۔ پیر کوامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں وزیر اعظم عمران خان کا استقبال کیا، دونوں رہنماؤں نے مصافحہ کیا بعدازاں میڈیا کو ہاتھ ہلاکر ملاقات کے لیے چلے گئے،پہلے دونوں رہنماؤں کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی جس کے بعد وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔بعد ازاں یہاں وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات، افغانستان میں امن کے قیام کے حوالے سے پاکستان کی کوششوں، خطے کی صورتحال سمیت مختلف امور زیر غور آئے۔ملاقات کے آغاز میں میڈیا کی موجودگی میں مختصر گفتگو کے دوران امریکی صدر نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کو انتہائی خوشگوار دیکھ رہا ہوں، امید ہے ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید بہتری آئے گی۔اوول آفس میں ٹرمپ نے کہا کہ افغانستان سے واپسی کے لیے امریکا، پاکستان کے ساتھ کام کررہا ہے اور امریکا خطے میں پولیس مین بننا نہیں چاہتا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان اس وقت افغانستان میں ہماری بڑی مدد کررہا ہے۔انہوں نے کہاکہ افغانستان میں اپنی فوج کی تعداد کم کررہے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا پاکستان کے ساتھ مل کر افغان جنگ سے باہر نکلنے کی راہ تلاش کررہا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم سے گفتگو کے دوران بھارت کے ساتھ کشیدہ تعلقات میں بہتری کیلئے کردار ادا کرنے کی بھی پیش کش کی۔امریکی صدر نے پاکستان اور بھارت کے درمیان درینہ مسئلہ کشمیر پر بھی ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیش کش کی۔مسئلہ کشمیر کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ اگر میں کوئی تعاون کرسکتا ہوں تو میں ثالثی کا کردار ادا کروں گا۔امریکی صدر نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی کہا تھا کہ امریکا مسئلہ کشمیر کے حل میں معاونت کرے، مجھے ثالث بننے میں خوشی ہوگی۔انہوں نے عمران خان سے کہا کہ اگر مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے میں کوئی مدد کرسکتا ہوں تو مجھے آگاہ کریں۔امریکی صدر نے کہا کہ امریکا پاک بھارت تعلقات میں بہتری کیلئے بھی مصالحت کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لوگ بہت اچھے ہیں، پاکستان میں میرے کافی دوست ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا، پاکستان میں سرمایہ کاری کا خواہاں ہے اور تجارت کے وسیع مواقع ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے ٹرمپ سے کہا کہ افغانستان کا واحد حل طالبان کے ساتھ امن معاہدہ ہے اور مجھے امید ہے کہ آنے والے دنوں میں‘ہم طالبان کو مذاکرات کے لیے تیار کر پائیں گے۔ وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے بھی گفتگو کی اور کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات شروع کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ آنے والے دنوں میں ہم طالبان کو مذاکرات کے لیے زور دے پائیں گے۔ٹوئٹر پر اپنے بیان میں عمران خان کی امریکی صدر سے ملاقات کے حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نیا پاکستان کا وژن لے کر امریکا آئے ہیں، عمران خان پاک امریکا تعلقات کا نیا دور شروع کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ ہم خطے میں امن اور خوشحالی کا بیانیہ لے کر امریکا آئے ہیں۔

loading...